ویب ڈیسک: سندھ کے وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے، اس سلسلے میں خواتین کے لیے مزید پنک بسیں شروع کی جا رہی ہیں جو بی آر ٹی کے مختلف روٹس پر نظر آئیں گی۔

گرین لائن منصوبے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کی پہلی بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسز چلائی جا رہی ہیں اور بی آر ٹی گرین لائن میں بھی خواتین کے لیے الگ اسپیس مختص کی جائے گی۔

آئندہ برس مون سون کے نقصانات سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی جائے؛ وزیراعظم

سینیئر وزیر نے بتایا کہ نمائش سے سرجانی تک پنک بی آر ٹی سروس شروع ہو چکی ہے جبکہ ایدھی اورنج لائن بی آر ٹی میں بھی جلد پنک بسیں چلائی جائیں گی۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ اگلے ہفتے ڈبل ڈیکر بسیں بھی کراچی پہنچ جائیں گی جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ خصوصی صلاحیتوں کے حامل بچوں کے لیے بائیک تیار کر رہا ہے جو انہیں مفت فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم فیصلے کر رہی ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید خوشخبریاں جلد ملیں گی۔

پنجاب حکومت کا غیر قانونی مقیم افغانیوں کی اطلاع دینے والوں کیلئے نقد انعام کا اعلان

شرجیل انعام میمن نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت کسانوں کو مفت کھاد فراہم کر رہی ہے، جس سے گندم کی کاشت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ کچھ حل طلب معاملات موجود ہیں تاہم انہیں جلد نمٹایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اوپن بریفنگ دی جاتی ہے، معاشرے کے ہر طبقے اور فرد کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 21 لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کے نام کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا جو خواتین کو بااختیار بنانے کی اہم مثال ہے۔

پنجاب؛ آئمہ کرام کے وظیفے کی منظوری و نگرانی کا نیا نظام تیار

وزیر اطلاعات نے وزیراعظم اور خیبر پختونخوا و پنجاب کے وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے صوبوں میں پنک بس سروس شروع کریں۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خواتین کے نے کہا کہ بتایا کہ بی آر ٹی کے لیے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان