چربی والا جگر (فیٹی لیور)  کا عارضہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جگر میں اضافی چربی جمع ہوجائے اور اس کے معمول کے کام متاثر ہونے لگیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی کے ایل آئی میں جگر کی پیوندکاری کے ایک ہزار آپریشن مکمل، وزیرِ اعظم کا اظہار تشکر

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غیر فعال طرز زندگی، میٹھے اور چکنائی والے کھانوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس بیماری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کا شکار ہیں اور اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری آگے چل کر غیر الکحلک اسٹئیٹو ہیپاٹائٹس فائبروسس، سیروسس یا بعض کیسز میں جگر کے کینسر تک کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی لیے اس بیماری کی ابتدائی علامات کو پہچاننا بے حد ضروری ہے۔

ہارورڈ اور اسٹینفرڈ سے تربیت یافتہ معدے اور جگر کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سوربھ سیٹھی نے چربی والے جگر کی وہ 8 اہم علامات بتائی ہیں جنہیں ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

وزن میں اضافہ

ڈاکٹر سیٹھی کے مطابق اگر وزن، خصوصاً پیٹ کے گرد، تیزی سے بڑھ رہا ہو تو یہ چربی والے جگر کی علامت ہوسکتی ہے۔ اس حصے میں چربی کا جمع ہونا جگر کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری

اگر مناسب نیند کے باوجود تھکاوٹ اور کمزوری برقرار رہے تو یہ جگر کی کارکردگی میں خرابی کا اشارہ ہے کیونکہ جگر جسم میں توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پیٹ میں درد یا سوجن

اوپر دائیں جانب پیٹ میں درد یا سوجن چربی والے جگر کی عام علامت ہے۔ جگر میں چربی بڑھنے سے وہ پھول سکتا ہے جس سے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

بلڈ شوگر کا بڑھ جانا

انسولین ریزسٹنس چربی والے جگر کے مریضوں میں عام ہوتا ہے۔ بلند شوگر لیول اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ جسم میں میٹابولک مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

فضلے کی رنگت

پیشاب کے رنگ میں گہرائی یا پاخانے کا ہلکا رنگ جگر کی خرابی کی نشانی ہے۔

مزید پڑھیے: کونسی غذائیں جسم کی خوشبو کو پرکشش بناتی ہیں؟

یہ مسائل بائل کی کمی یا بلی روبن کے جمع ہونے سے پیدا ہوتے ہیں۔

یرقان

جلد اور آنکھوں کا پیلا پڑ جانا چربی والے جگر کے بڑھ جانے کی انتہائی خطرناک علامت ہے جس کے لیے فوری طبی مدد ضروری ہے۔

کولیسٹرول کی زیادتی

چربی والا جگر اکثر ہائی کولیسٹرول کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ بلند کولیسٹرول نہ صرف جگر کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھاتا ہے۔

معمولی چوٹ پر بھی فوری نیل یا خون بہنا

بیماری کے آخری مراحل میں جگر خون جمانے کے لیے ضروری پروٹین بنانا چھوڑ دیتا ہے جس سے معمولی چوٹ پر بھی زیادہ خون بہ سکتا ہے یا نیل پڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پانی میں نیلی سبز کائی: انسان اور جانوروں دونوں کے لیے خطرناک

واضح رہے کہ ان علامات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ جلد تشخیص اور بروقت علاج مستقل جگر کے نقصان سے بچا سکتا ہے اور صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جگر پر چربی جگر کا عارضہ جگر کی خرابی جگر کے مسائل چربی دار جگر فیٹی لیور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جگر کا عارضہ جگر کی خرابی جگر کے مسائل چربی والے جگر کی سکتا ہے جگر کے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار