data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزن کم کرنے کا عمل بظاہر سادہ لگتا ہے، کم کھائیں اور زیادہ کیلوریز جلا کر وزن کم کریں۔ لیکن اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے روزانہ کتنی کیلوریز لینا مناسب ہے۔

امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے لیے روزانہ تقریباً 500 کیلوریز کم کرنا ایک اچھا آغاز ہو سکتا ہے۔ اگر آپ روزانہ 500 کیلوریز کم کریں تو ایک ہفتے میں تقریباً ایک پاؤنڈ وزن کم ہو سکتا ہے۔ کیلوریز کا ایک اور آسان حساب یہ ہے کہ اپنی موجودہ باڈی ویٹ کو 15 سے ضرب دیں، یہ آپ کو بتائے گا کہ وزن برقرار رکھنے کے لیے کتنی کیلوریز درکار ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے صرف اس میں کمی کریں۔

تاہم صرف کیلوریز گننا کافی نہیں۔ نیو یارک سٹی کی این وائی یو لینگون ہیلتھ کی ماہر غذا سمانتھا ہیلر کا کہنا ہے کہ وزن کم ہونا راتوں رات ممکن نہیں۔ جیسے وزن جلدی نہیں بڑھتا، ویسے ہی جلدی کم بھی نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کچھ بھی کھا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ پہلے کی نسبت کم کیلوریز لے رہے ہوں یا زیادہ کیلوریز جلا رہے ہوں۔

خوراک میں سبزیاں شامل کرنا ضروری ہے جیسے گاجر، ٹماٹر، بروکلی، پالک اور شملہ مرچ۔ پروٹین کے لیے دالیں جیسے لال اور سفید لوبیا، چنے کی دال اور مکمل اناج، براؤن رائس، گندم اور جو استعمال کریں۔ روزانہ کچھ پھل اور خشک میوہ جات بھی خوراک میں شامل کریں۔ زیادہ کیلوریز والی اشیا کی جگہ کم کیلوریز اور صحت مند متبادل استعمال کریں۔ اسنیکس کے لیے پاپ کارن، انگور، کم چکنائی والے اسٹکس، ایک چھوٹا سیب یا چند بادام لینا بہتر ہے۔

روزانہ اپنی خوراک سے کم کیلوریز والی تبدیلیاں کرنا مفید ہے، مثلاً دوپہر یا رات کے کھانے میں میٹھا کم کریں یا دوسری پلیٹ نہ لیں۔ کھانا پکاتے وقت زیادہ کیلوریز والے اجزاء کی جگہ کم کیلوری والے استعمال کریں، جیسے کریم کی بجائے سادہ دہی۔ تلی ہوئی اشیا، بشمول فرنچ فرائز، ترک کریں۔

ماہرین صحت کے مطابق وزن کم کرنے کا مطلب صرف کیلوریز کو کم کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ کیا اور کتنا کھا رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق، جو جرنل آف اوبیسٹی اینڈ میٹابولک سنڈروم میں شائع ہوئی، میں مختلف ڈائٹ پلانز کا جائزہ لیا گیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ کیلوریز کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے لیے ایک ذاتی وزن کم کرنے کا منصوبہ بنائے اور اسے طویل عرصے تک کاربند رہ کر اپنائے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کم کرنے کا کے لیے

پڑھیں:

دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا

18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دو ہفتے کے دوران پاکستان میں پٹرول 20 روپے اور ڈیزل 55 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ 18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے 24 جولائی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے کا اضافہ کیا گیا، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ حکومت نے گزشتہ روز بھی ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • پیٹرولیم قیمتوں کا روزانہ تعین، سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وضاحت طلب کر لی
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار