نادرا کارڈ سینٹر نامی جعلی ویب سائٹ سے متعلق شکایت جمع
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
نادرا کارڈ سینٹر کے نام کی جعلی ویب سائٹ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں شکایت جمع کرادی گئی۔
نادرا ترجمان کے مطابق نادرا کارڈ سینٹر کے نام سے جعلی ویب سائٹ کام کر رہی ہے، جو اوورسیز پاکستانیوں خصوصاً برطانیہ میں مقیم شہریوں کے ساتھ جعلسازی میں ملوث ہے۔
ترجمان کے مطابق ویب سائٹ نادرا کے نام پر شناختی کارڈ اور نائیکوپ کی خدمات کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے۔
نادرا ترجمان کے مطابق ویب سائٹ نادرا کے نام پر ملازمتوں کی فراہمی کا جھوٹا دعویٰ کر رہی ہے، اس پلیٹ فارم پر دی گئی ذاتی معلومات، دستاویزات یا ادائیگیاں غلط استعمال ہوسکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق جعلی ویب سائٹ پر کارروائی کےلیے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں شکایت جمع کرادی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان کے مطابق جعلی ویب سائٹ کے نام
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں