غزہ میں کوئی بھی انسانی شکار کھیل سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اگر آپ یہودی نہیں ہیں مگر صیہونی نظریے کے حامی ہیں اور آپ کی عمر اٹھارہ تا چوبیس برس ہے تو آپ اسرائیلی فوج میں چودہ ماہ تک غیر عسکری شعبوں میں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔اگر آپ دوہری شہریت کے حامل ہیں (یعنی اسرائیلی شہریت کے ساتھ کسی اور ملک کے بھی شہری ہیں)۔ تب آپ اسرائیلی قانون کے تحت تین سال کی لازمی فوجی خدمات کے لیے پابند ہیں۔
اس وقت اسرائیلی فوج میں دوہری شہریت کے حامل بارہ سو امریکی ، ایک ہزار اطالوی ، لگ بھگ ایک سو برطانوی ، بیسیوں فرانسیسی اور درجنوں جنوبی افریقی شہری خدمات انجام دے رہے ہیں۔سات سے دس ہزار وہ فوجی ہیں جو اسرائیل سے باہر پیدا ہوئے۔ اسرائیلی فوج میں شامل کئی غیر ملکی شہریوں کی غزہ میں موت بھی ہوئی ہے اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں فلسطینی نژاد اسرائیلی صحافی یونس تراوی نے فوج میں شامل غیر ملکی نشانہ بازوں ( سنائپرز ) کی سرگرمیوں پر ایک چونکا دینے والی دستاویزی فلم ریلیز کی۔اس کے بعد کچھ ممالک میں ان نشانہ بازوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو گئی۔
ان نشانہ بازوں کا تعلق غزہ میں متحرک تھرٹی فائیو ایربورن انفنٹری ڈویژن کی نائنتھ پلاٹون میں شامل ٹو زیرو ٹو بٹالین کے گھوسٹ یونٹ سے تھا۔اس یونٹ میں لگ بھگ بیس غیر ملکی شہریت رکھنے والے سنائپرز شامل تھے۔ان میں سے چھ نشانچیوں نے نومبر دو ہزار تئیس تا فروری دو ہزار چوبیس کے چار ماہ میں خان یونس کے ناصر اسپتال اور غزہ سٹی کے القدس اسپتال کے اردگرد کے عمارتی کھنڈرات میں مورچے لگا کے نہتے شہریوں کا تاک تاک کے شکار کیا۔فلم پروڈیوسر نے دوہری شہریت رکھنے والے سات نشانچیوں کو شناخت کیا۔ان میں امریکا سے آنے والا ڈینیل راب ، بلجئیم کا ایلن بین سیرا ، جنوبی افریقہ کا ایلن بیہاک ، اٹلی کا رافیل کاجیا ، جرمنی کا ڈینیل گریٹز ، فرانس سے آنے والا ساشا بی اور گیبریل بی ایچ شامل ہیں۔
فلم پروڈیوسر نے امریکی سنائپر ڈینیل راب کا یہ کہہ کر انٹرویو کیا کہ اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی اور یہ فلم غزہ کے مشکل حالات میں اسرائیلی فوج کو درپیش چیلنجز اور کارکردگی کے موضوع پر بنائی جا رہی ہے۔ڈینیل کا تعلق شکاگو سے ہے۔وہ باسکٹ بال کا کھلاڑی اور یونیورسٹی آف الی نوائے سے بائیولوجی گریجویٹ ہے۔
اس نے بتایا کہ نائنتھ پلاٹون میں شامل ہمارا یونٹ اپنے فیصلوں میں خاصا خود مختار تھا۔ہم نے چار چار کی ٹولیوں میں کام کیا۔میرے ساتھ جرمنی کے شہر میونخ سے تعلق رکھنے والا ڈینیل گریٹز تھا۔ہم دونوں نے غزہ سٹی کے القدس اسپتال کے قریب منیر الرئیس اسٹریٹ کی ایک کثیر منزلہ عمارت میں مورچہ بنایا اور نیچے سڑک پر ایک تصوراتی لکیر کھینچ دی کہ جو بھی اسے پار کرے گا اسے دشمن سمجھ کے مار دیا جائے گا۔
دونوں سنائپرز نے بائیس نومبر دو ہزار تئیس کو چھ افراد کو نشانہ باندھ کے ہلاک کیا۔ان میں سے چار کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ ان کا تعلق ایک ہی خاندان دوگماش سے تھا۔اس خاندان کے دو بھائی کچرا اور پلاسٹک چن کر گھر والوں کا پیٹ پالنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔
ڈینیل راب نے بتایا کہ سب سے پہلے ہم نے چھبیس سالہ محمد دوگماش کا نشانہ لیا۔جب اس کے چھوٹے بھائی انیس سالہ سالم دوگماش نے بھائی کی لاش اٹھانے کی کوشش کی تو میں نے اس کا بھی نشانہ لیا۔جب ان دونوں کا والد منتصر بھاگابھاگا آیا تو میرے ساتھی نے اس کو ہدف بنایا۔منتصر شدید زخمی ہوا اور اگلے دن مر گیا۔اس کے بعد ہم نے منتصر کے کزن خلیل کا نشانہ لیا اور اس کا بازو شدید زخمی ہو گیا۔
چنانچہ گلی میں پڑی لاشیں اٹھانے گزشتہ روز تک پھر کوئی نہیں آیا۔ایک اور سنائپر نے سینتالیس سالہ فرید کو مارا۔یہ دوگماش خاندان کا دور کا رشتہ دار تھا۔راب نے بتایا کہ دو دن میں ہم نے منیر الرئیس اسٹریٹ پر آٹھ لوگ مارے۔ان میں سے چھ دوگماش خاندان سے تھے۔راب نے بتایا کہ ہمارے گھوسٹ یونٹ نے غزہ میں اپنی تعیناتی کے دوران ایک سو پانچ لوگوں کو مارا۔
راب کے انٹرویو سے یہ بھی پتہ چلا کہ علاقے میں موجود کوئی بھی فوجی کمانڈر اچانک کسی گلی یا آدھی گلی کو فوجی زون قرار دیتا ہے مگر علاقے کے مکین اس بات سے لاعلم رہنے کے سبب اس زون میں نادانستہ طور پر داخل ہوتے ہیں اور مارے جاتے ہیں۔حالانکہ اسرائیلی فوج کے ضابطہ اخلاق میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ کوئی لاش اٹھانے والا یا کسی زخمی کی مدد کرنے والا غیر مسلح شخص جائز فوجی ہدف نہیں۔
دوگماش خاندان اور دیگر نہتے فلسطینیوں کی ہلاکت کے لمحات کی ڈرون فوٹیج اس واقعہ کے تقریباً پانچ ماہ بعد ایک اسرائیلی فوجی شالوم گلبرٹ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی اور پھر یہ وائرل ہو گئی۔
جب ان سنائپرز کے بارے میں دستاویزی فلم گزشتہ سال اکتوبر میں ریلیز ہوئی تو اس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشترکہ طور پر ان چھ نشانچیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی جن کا اس فلم میں تذکرہ ہوا ہے ۔تاہم ایسے جرائم کی سماعت کی مرکزی جگہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل یہ عدالت سرے سے تسلیم نہیں کرتا اور امریکا نے اس عدالت کے ججوں پر تادیبی پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ہاں اگر یہی نشانچی اسرائیل کے بجائے داعش جیسے کسی گروپ میں شامل ہو کر اپنی اپنی ریاستوں میں واپس جاتے تو ان کی شہریت بھی منسوخ ہو سکتی تھی۔
فرض کریں اسرائیلی فوج کے گھوسٹ یونٹ کے ان چھ نشانچیوں کا تمام ثبوتوں کے ساتھ عالمی عدالت میں مقدمہ چلے۔تب بھی کون جانتا ہے کہ فیصلہ دس برس میں آئے گا یا پندرہ برس بعد ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے بتایا کہ نے والا فوج میں
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔