اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترامیم شامل کی جائیں گی، مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترامیم شامل کی جائیں گی، مصطفی کمال WhatsAppFacebookTwitter 0 17 November, 2025 سب نیوز
کراچی (سب نیوز)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے دعوی کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور آئینی ترمیم متوقع ہے جس میں بلدیاتی حکومتوں سے متعلق تبدیلیاں آئینی ترمیم میں شامل کی جائیں گی جس کا مطالبہ ایم کیو ایم پاکستان کرتی آئی ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے نافذ ہونے کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مصطفی کمال نے آئین کے آرٹیکل 140 اے کا ذکر کیا، جو مقامی حکومتوں سے متعلق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے اس آرٹیکل میں مجوزہ ترامیم کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ انہیں 28ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنا کر زیرِ بحث لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں ابتدا میں 26ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھیں، جو گزشتہ سال اکتوبر میں ایک رات میں طویل اجلاس کے ذریعے پارلیمنٹ سے منظور کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ تبدیلیاں اس وقت پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاسوں میں بھی زیرِ بحث آئیں، تاہم حکومت نے اس وقت یہ کہہ کر اپنی عدمِ استطاعت ظاہر کی کہ وہ ان ترامیم کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکتیں۔اس لیے انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان سے درخواست کی کہ معاملہ اگلی آئینی ترمیم تک موخر کیا جائے۔مصطفی کمال نے مزید کہا کہ چنانچہ ہمارا بل ایک سال تک قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پڑا رہا اور پھر 27ویں آئینی ترمیم کا وقت آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم چاہتی تو 27ویں آئینی ترمیم کے اعلان سے قبل، حکومت کی جانب سے آئینی تبدیلی کا فیصلہ سامنے آنے پر وہ حکومت سے مزید وزارتیں، ترقیاتی پیکیج کے نام پر وسائل، یا مراعات و خصوصی اختیارات کا مطالبہ بھی کر سکتی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپہلے سیکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی پہلے سیکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی علیمہ خان کے نام موجودجائیداد کی تفصیل عدالت میں پیش، 11ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری آئینی ترمیم کیخلاف آزاد عدلیہ کے حامیوں سے مل کر احتجاج کرینگے، تحریک تحفظ آئین پاکستان زیادہ آبادی غربت کا باعث بنتی ہے، ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی پر کنٹرول ناگزیر ہے، وزیر خزانہ خوارجی کمانڈر نوجوانوں کو بدکاری کی طرف دھکیلتے ہیں،خارجی دہشتگرد احسان اللہ کے فتن الخوارج کے حوالے سے ہوشربا انکشافات وفاقی آئینی عدالت کے 2مزید ججز جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد شاہ نے حلف اٹھالیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم مصطفی کمال
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔