’دودھ دینے والی گائے، کہیں مر ہی نہ جائے‘: مصطفیٰ کمال کی شہری علاقوں کی محرومیوں‘ پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ کراچی کی ’محرومیوں‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر ایک دودھ دینے والی گائے ہے اسے چارہ نہیں دیں گے تو کس طرح چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا جواب، مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو اینٹی سروائیکل کینسر ویکسین لگوا دی
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے عوامی حقوق کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پاس جا کر اپنا مؤقف رکھا اور بلدیاتی نظام سے متعلق آئینی ترمیم کو حکومت میں شامل ہونے کی واحد شرط قرار دیا تھا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی نظام سے متعلق آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تاہم 26ویں آئینی ترمیم کے دوران اس بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے درخواست کی تھی کہ کچھ اہم قانون سازی کے باعث اس معاملے کو مؤخر کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم چاہتی تو وزارتیں اور مراعات مانگ سکتی تھی لیکن انہوں نے صرف عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن)، وزیراعظم، کابینہ اور چودھری سالک سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایم کیو ایم کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے بھی 27ویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم کے بل کو شامل کرنے کی تائید کی۔
مزید پڑھیے: بھارت اور اسرائیلی جارحیت سے صحتِ عامہ کو خطرہ ہے، مصطفیٰ کمال کا عالمی فورم پر انتباہ
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اس بل پر 6 گھنٹے بحث ہوئی تاہم پیپلزپارٹی اس بل کو 27ویں ترمیم میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ترمیم میں ایم کیو ایم کے بل کو لازمی شامل کیا جائے گا۔ ان نے مزید کہا کہ پنجاب نے جو بل پاس کیا ہے وہ من و عن ایم کیو ایم کے بل کے مطابق ہے جو پارٹی کے مؤقف کی مکمل تائید ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر یہ بل کابینہ میں زیر بحث نہ آتا تو وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار تھے۔ ان کے مطابق عوامی حقوق کی بات کرنا ہی ایم کیو ایم کا نصب العین ہے۔
انہوں نے ملک کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کا تعلق براہ راست عوامی محرومیوں سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 70 سال سے ہم اپنی فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑا رہے ہیں، محرومیاں بددل پاکستانی پیدا کرتی ہیں جو پھر اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم میں اختیارات کی جنگ، فاروق ستار کے جانے کے بعد مصطفیٰ کمال کی اجلاس میں شرکت
وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے فنڈز آگے منتقل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے شہری علاقوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو آج 800 ارب کے بجائے ایک ارب روپے بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی دودھ دینے والی گائے ہے اسے چارہ نہیں دو گے تو کیسے چلے گا؟
مصطفیٰ کمال نے پیپلزپارٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ضلعی حکومتیں چاہے پیپلزپارٹی کی ہوں مگر شہری علاقوں کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ حکومت اتنی اچھی ہوتی تو آپ کے ساتھ اتحاد کیوں کرتے؟ مصطفیٰ کمال کا مریم نواز کو جواب
انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کے مطالبات نہ مانے گئے تو حالات صوبے کی تشکیل تک جا سکتے ہیں کیونکہ لوگوں میں محرومی بڑھ رہی ہے اور سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ میں بلدیاتی نظام کراچی کراچی دودھ دینے والی گائے کراچی کے حقوق کراچی میں بلدیاتی نظام وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ میں بلدیاتی نظام کراچی کراچی دودھ دینے والی گائے کراچی کے حقوق کراچی میں بلدیاتی نظام وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال دودھ دینے والی گائے ایم کیو ایم کے بلدیاتی نظام وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے کمال نے ایم کی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔