شعیب ملک اورثنا جاوید کی نئی تصاویر وائرل، علیحدگی کے نام پر دکان چمکانے والوں کا منہ بند
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شعیب ملک اور ان کی اہلیہ معروف اداکارثنا جاوید گزشتہ کئی دنوں سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، ان کے حوالے سے افواہیں گردش کررہی تھیں کہ دونوں میں علیحدگی ہوگئی مگر وائرل ہونے والی نئی تصاویر نے اپنی دکان چمکانے والوں کا منہ بند کردیا۔ گزشتہ دنوں سے جوڑے کے درمیان طلاق کی چونکا دینے والی خبروں نے شعیب اور ثنا کے مداحوں کو کشمکش میں مبتلا کیا ہوا تھا، دونوں کی سوشل میڈیا پوسٹیں بنیں جن میں دونوں علیحدہ علیحدہ نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کے نزدیک حالیہ چند دنوں سے شعیب ملک اور ثنا جاوید کی وہ کیمسٹری بھی نظر آئی جو کبھی اس جوڑے کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ شعیب ملک اور ثنا جاوید کے درمیان اسی پُراسرار خاموشی اور دوری نے افواہوں کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تُکے لگائے جانے لگے، مگر گزشتہ رات شعیب ملک اور ثنا جاوید کی وائرل ہونے والی تصاویر نے تمام قیاس آرائیوں کی نفی کردی۔ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں اپنے کسی دوست اور اُس کی اہلیہ کے ساتھ موجود ہیں، تصاویر میں شعیب اور ثنا کو ایک ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شعیب ملک اور ثنا جاوید اور ثنا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔