ڈنمارک میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوپن ہیگن: ڈنمارک کی حکومت نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔پندرہ سال سے کم عمر بچے اب سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس اقدام کا مقصد کم عمر بچوں کوآن لائن خطرات، نفسیاتی دباؤ اور غیر مناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔بچوں کو صرف چند مخصوص اور نگرانی شدہ پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت ہوگی، پارلیمان کی اکثریت نے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ والدین اور تعلیمی ادارے بھی بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کی نگرانی میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ والدین کو یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ 13 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو مخصوص پلیٹ فارمز تک رسائی کی خصوصی اجازت دے سکیں۔ گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم میٹے فریڈرِکسن نے پارلیمنٹ کے افتتاحی خطاب میں بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق بڑھتی تشویش کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی تھی۔
ڈنمارک میں بچوں کے استعمال میں سب سے زیادہ آنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں۔ ڈنمارک کی ایک اتھارٹی کی فروری کی ایک رپورٹ کے مطابق نوجوان روزانہ اوسطاً 2 گھنٹے 40 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
ڈنمارک اس سلسلے میں آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے، جس نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کم عمر بچوں سوشل میڈیا بچوں کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔