علامہ اقبال کا فلسفہ خودی روشنی کا مینار ہے،مفتی فیض
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)جماعت غوثیہ اہل سنت انٹرنیشنل کے چیئرمین مفتی محمد فیض احمد قادری نے کہا ہے کہ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی آج بھی امت مسلمہ کے لیے روشنی کا مینار ہے، اقبال نے مسلمانوں کو اپنے مقام اور حیثیت کا احساس دلایا اور انہیں یہ پیغام دیا کہ اپنی خودی کو پہچانو اور اپنے اندر کی قوت کو بیدار کرو۔ مفتی فیض احمد قادری نے کہا کہ آج امت مسلمہ اقبال کے فلسفہ خودی سے دور ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ زوال ہمارا مقدر بن گیا ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ دنیا میں عزت و عظمت چاہتے ہیں تو انہیں اقبال کے پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خودی کا مطلب تکبر یا غرور نہیں بلکہ اپنے رب کی پہچان اپنے مقصد زندگی کا شعور اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے۔ اقبال نے بتایا کہ خودی دراصل ایمان عمل اور عشق کا امتزاج ہے جو انسان کو کائنات میں فعال کردار ادا کرنے کی قوت دیتا ہے ۔مفتی فیض احمد قادری نے کہا کہ نوجوان نسل کو اقبال کے فلسفہ خودی سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر امت اور وطن کی خدمت کر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اقبال کے افکار پر خصوصی لیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کو اقبال کے نظریہ خودی کی روح سے روشناس کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام کسی ایک دور یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اقبال ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان جب اپنے اندر کی قوت کو پہچان لیتا ہے تو وہ دنیا کے نظام میں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے ۔مفتی فیض احمد قادری نے کہا کہ جماعت غوثیہ اہل سنت انٹرنیشنل علامہ اقبال کے افکار و فلسفہ کو عام کرنے کے لیے ملک بھر میں پروگرامز اور کانفرنسز کا اہتمام کرے گی تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں خودی کا جذبہ دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیض احمد قادری نے کہا فلسفہ خودی نے کہا کہ اقبال کے مفتی فیض کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔