Juraat:
2026-07-24@05:50:41 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

ڈاکٹر سلیم خان

آر ایس ایس کے حوالے سے کانگریس کے رویہ میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے ۔ پہلے کانگریسی آر ایس ایس سنگھ کا اس طرح نام لے کر مخالفت کرنے سے گریز کرتے تھے مگر اب وہ احتیاط دریا بردہو گیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ساورکر کے معافی نامہ پر تنقید کا آغاز کیا اوراب صدر ملک ارجن کھرگے کھلے عام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ کردیا۔ اس معاملے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی بات کے حق گاندھی یا نہرو کے بجائے سنگھ کے چہیتے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا حوالہ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کو عار دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی وہ سردار پٹیل کے نظریات کا احترام کرتے ہیں تو ان پر عمل کریں۔وہ مودی کے توسط سے سنگھ پریوار کو یاد دلاتے ہیں سردار پٹیل جی نے ایک خط میں لکھا تھا، کہ گاندھی جی کے قتل پر آر ایس ایس کے اراکین نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ا س نے مزید مخالفت کو ہوا دی اور اسی ان کی حکومت کے پاس آر ایس ایس کے خلاف اقدامات اٹھانے یعنی پابندی لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ کھرگے کے مطابق ”سردار پٹیل کہا کرتے تھے کہ آر ایس ایس کی تقریروں میں فرقہ واریت کا زہر بھرا ہوا ہے ۔ آر ایس ایس کی وجہ سے ہی گاندھی جی کا قتل ہوا”۔انہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی جی کو قتل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو آج کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں۔
آر ایس ایس کو ایک دو نہیں بلکہ جملہ تین الگ الگ مواقع پر مختصر طور پر ایک غیر قانونی گروپ قرار دیا جا چکا ہے ۔ پہلی بار تو اس وقت جب ناتھو رام گوڈسے نامی سابق سنگھی نے ہندوستان کی آزادی کے ہیرو گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ پابندی سن 1975میں ایمرجنسی کے دوران پابندی لگائی گئی اور تیسری مرتبہ سن 1993میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی یہی ہوا۔امسال گجرات کے ایکتا نگر میں اسٹیچو آف یونٹی کے قریب قومی یوم اتحاد پریڈ کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہاکہ ”سردار پٹیل کا ماننا تھا کہ تاریخ لکھنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ تاریخ بنانے کے لیے محنت کرنی چاہیے ”۔بات درا صل یہ کہ سنگھ کی تاریخ اس قدر شرمسار کرنے والی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی پردہ داری کرکے دوسروں کی خاص طور پر مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے میں جٹے رہتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن 1925میں قائم ہونے والی تنظیم آر ایس ایس نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں نہ تو حصہ لیا تھا اور نہ ہی سن 1942میں برطانوی حکومت کے خلاف بھارت چھوڑو” جیسی اہم تحریک میں اس کا کوئی کردار نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ مخبری اور معافی مانگ کر ہمیشہ کے لیے وفاداری کا عہد کرتے رہے ۔
کیرالہ کے ضلع کوٹائم میں جس26 سالہ آئی ٹی پروفیشنل کی خودکشی کا اوپر ذکر کیا گیا اس کی تفصیلات چونکانے والی ہیں ۔ وہ 9 اکتوبر کو ترواننت پورم میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ اس نے انسٹاگرام پر جونوٹ چھوڑا اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسے آر ایس ایس کی ایک شاکھا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کوٹائم میں آر ایس ایس کے دکشن کیرلَم سہ پرانتھ کاریواہ (جنوبی کیرالہ کے ناظم) کے بی سری کمار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمارے ایک سویم سیوک کی موت افسوسناک اور بدقسمتی کی بات ہے ۔” اسی کے ساتھ خودکشی کے نوٹ میں سنگھ کے خلاف کچھ مشکوک اور بے بنیاد الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کوٹائم پولیس کو دی گئی درخواست میں آر ایس ایس کو پھنسانے کی ایک دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش کی کرکے سنگھ کی شبیہ کو عوام کے سامنے خراب کرنے کی ایک بڑی سازش کا الزام لگایا تھا مگر اس طرح یہ اعتراف تو ہوگیا متوفی انندو سنگھ کا پروردہ تھا۔ مرنے سے قبل جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور سازش کی آڑ میں سنگھ اس الزام سے بچ نہیں سکتا۔
سنگھ کے برعکس بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی(ایم) کی یوتھ وِنگ، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا کے ریاستی جنرل سکریٹری وی کے سَنوج نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص مبینہ جنسی استحصال کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا تھا۔ انہوں نے کہا، ”ہم بار بار بتا رہے ہیں کہ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں کیا ہو رہا ہے ۔ اس نوجوان کی موت آر ایس ایس میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے” ۔ کیرالہ کی وایاناد سے رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پر لکھا:اس(متوفی) نے واضح طور پر کہا کہ وہ واحد متاثرہ نہیں تھا، بلکہ آر ایس ایس کیمپوں میں بڑے پیمانے پر جنسی استحصال ہو رہا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو نہایت ہولناک ہے کیونکہ ملک بھر میں لاکھوں بچے اور نوجوان ان کیمپوں میں شریک ہوتے ہیں”۔انندو آجی نے اپنی پوسٹ میں لکھا :”میں کسی لڑکی، عشق، قرض یا ایسی کسی بات کی وجہ سے خودکشی نہیں کر رہا۔ میں ایسا اپنی بے چینی (anxiety) اور ڈپریشن کے دوروں کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ اپنی دواؤں کی وجہ سے میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے پاتا ہوں ۔ میں کسی سے ناراض نہیں ہوں، سوائے ایک شخص اور ایک تنظیم کے ۔ وہ تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) ہے ، جس میں میرے والد (جو بہت اچھے انسان ہیں) نے مجھے شامل ہونے کو کہا تھا۔ اس تنظیم اور اس شخص دونوں کی وجہ سے سے میری زندگی بھر کی اذیت شروع ہوئی ”۔
انندو نے اپنی موت سے قبل خودکشی کے نوٹ میں لکھاکہ :”بچپن میں مجھے ایک شخص نے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ مجھے آر ایس ایس کے کئی اراکین نے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون تھے ۔ لیکن میں اس شخص کو ضرور بے نقاب کروں گا جس نے میرے ساتھ تب زیادتی کی جب میں صرف 3 یا 4 سال کا تھا۔اس نے بار بار میرے ساتھ زیادتی کی، میرے جسم کے ساتھ بہت کچھ کیا۔ میں اس کے لیے جیسے ایک ‘جنسی کھلونا’ تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ احساس بہت بعد میں ہوا کہ میری ذہنی بیماری کی جڑ یہی زیادتی تھی، جب میری تشخیص OCD (وسواسی اختلال) کے طور پر ہوئی۔ اس سے پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ میرے لیے بھائی جیسا تھا، اور میرے گھر والے بھی اسے رشتہ دار سمجھتے تھے ۔”ان انکشافات کے باوجود بی جے پی کے قومی ترجمان سدھا نشو تریویدی کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے کہ ،”یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ گھناؤنی سیاست ہے جو کانگریس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے کھیل رہی ہے ”۔
سچ تو یہ صد سالہ جشن کے رنگ میں اس سانحہ نے بھنگ ڈال کر اسے برسی کے سوگ میں تبدیل کردیا ہے ۔ آر ایس ایس پر پابندی کے مطالبے کی ابتداحال میں کرناٹک کے وزیر پرینک کھرگے نے کی ۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا پر زور دیا کہ وہ سرکاری اسکولوں، کالجوں اور مندروں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ تنظیم پر نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے ان میں آئین مخالف خیالات کو فروغ دیتی ہے ۔ ملک ارجن کھرگے کے بعد یوگی باباکی ناک تلے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کے موقع پر لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کے انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر نکتہ چینی کی۔اکھلیش یادو نے اعتراف کیا کہ ریاستوں کو متحد کرکے ہندوستان کو اتحاد میں ڈھالنے میں پٹیل کی شراکت داری ناقابلِ فراموش ہے ۔ آج ملک کو ایک بار پھر ان کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے ۔
اکھلیش یادو نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو ہندوستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ اگر وہ واقعی سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خیالات کا احترام کرتے ہیں تو انہیں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا فیصلہ لینا چاہیئے ۔ کانگریس کے قومی صدر کے آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کو درست ٹھہراتے ہوئے اکھلیش یادو بولے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک میں نفرت اور تشدد پھیلا رہے ہیں۔ اسی لیے سردار پٹیل نے اپنے دور میں آر ایس ایس پر پابندی لگا ئی تھی۔ اکھلیش یادو بولے ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی کیوں لگائی تھی؟ ذات پات کے نام پر دلتوں کے خلاف اتنا ظلم کسی اور ملک نے نہیں ہوا ہے ۔ سردار پٹیل کے نظریات کو اپنا تے ہوے مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرہ بنانا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیے بغیر اس مقصد کا حصول ناممکن ہے ۔ اس سوال کا جواب بہت بڑے نفی میں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: آر ایس ایس پر پابندی میں آر ایس ایس آر ایس ایس کے کہ آر ایس ایس آر ایس ایس کی اکھلیش یادو سردار پٹیل سویم سیوک کا مطالبہ کی وجہ سے انہوں نے کے خلاف کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف