Juraat:
2026-06-03@00:46:22 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

ڈاکٹر سلیم خان

آر ایس ایس کے حوالے سے کانگریس کے رویہ میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے ۔ پہلے کانگریسی آر ایس ایس سنگھ کا اس طرح نام لے کر مخالفت کرنے سے گریز کرتے تھے مگر اب وہ احتیاط دریا بردہو گیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ساورکر کے معافی نامہ پر تنقید کا آغاز کیا اوراب صدر ملک ارجن کھرگے کھلے عام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ کردیا۔ اس معاملے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی بات کے حق گاندھی یا نہرو کے بجائے سنگھ کے چہیتے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا حوالہ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کو عار دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی وہ سردار پٹیل کے نظریات کا احترام کرتے ہیں تو ان پر عمل کریں۔وہ مودی کے توسط سے سنگھ پریوار کو یاد دلاتے ہیں سردار پٹیل جی نے ایک خط میں لکھا تھا، کہ گاندھی جی کے قتل پر آر ایس ایس کے اراکین نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ا س نے مزید مخالفت کو ہوا دی اور اسی ان کی حکومت کے پاس آر ایس ایس کے خلاف اقدامات اٹھانے یعنی پابندی لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ کھرگے کے مطابق ”سردار پٹیل کہا کرتے تھے کہ آر ایس ایس کی تقریروں میں فرقہ واریت کا زہر بھرا ہوا ہے ۔ آر ایس ایس کی وجہ سے ہی گاندھی جی کا قتل ہوا”۔انہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی جی کو قتل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو آج کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں۔
آر ایس ایس کو ایک دو نہیں بلکہ جملہ تین الگ الگ مواقع پر مختصر طور پر ایک غیر قانونی گروپ قرار دیا جا چکا ہے ۔ پہلی بار تو اس وقت جب ناتھو رام گوڈسے نامی سابق سنگھی نے ہندوستان کی آزادی کے ہیرو گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ پابندی سن 1975میں ایمرجنسی کے دوران پابندی لگائی گئی اور تیسری مرتبہ سن 1993میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی یہی ہوا۔امسال گجرات کے ایکتا نگر میں اسٹیچو آف یونٹی کے قریب قومی یوم اتحاد پریڈ کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہاکہ ”سردار پٹیل کا ماننا تھا کہ تاریخ لکھنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ تاریخ بنانے کے لیے محنت کرنی چاہیے ”۔بات درا صل یہ کہ سنگھ کی تاریخ اس قدر شرمسار کرنے والی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی پردہ داری کرکے دوسروں کی خاص طور پر مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے میں جٹے رہتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن 1925میں قائم ہونے والی تنظیم آر ایس ایس نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں نہ تو حصہ لیا تھا اور نہ ہی سن 1942میں برطانوی حکومت کے خلاف بھارت چھوڑو” جیسی اہم تحریک میں اس کا کوئی کردار نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ مخبری اور معافی مانگ کر ہمیشہ کے لیے وفاداری کا عہد کرتے رہے ۔
کیرالہ کے ضلع کوٹائم میں جس26 سالہ آئی ٹی پروفیشنل کی خودکشی کا اوپر ذکر کیا گیا اس کی تفصیلات چونکانے والی ہیں ۔ وہ 9 اکتوبر کو ترواننت پورم میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ اس نے انسٹاگرام پر جونوٹ چھوڑا اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسے آر ایس ایس کی ایک شاکھا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کوٹائم میں آر ایس ایس کے دکشن کیرلَم سہ پرانتھ کاریواہ (جنوبی کیرالہ کے ناظم) کے بی سری کمار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمارے ایک سویم سیوک کی موت افسوسناک اور بدقسمتی کی بات ہے ۔” اسی کے ساتھ خودکشی کے نوٹ میں سنگھ کے خلاف کچھ مشکوک اور بے بنیاد الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کوٹائم پولیس کو دی گئی درخواست میں آر ایس ایس کو پھنسانے کی ایک دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش کی کرکے سنگھ کی شبیہ کو عوام کے سامنے خراب کرنے کی ایک بڑی سازش کا الزام لگایا تھا مگر اس طرح یہ اعتراف تو ہوگیا متوفی انندو سنگھ کا پروردہ تھا۔ مرنے سے قبل جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور سازش کی آڑ میں سنگھ اس الزام سے بچ نہیں سکتا۔
سنگھ کے برعکس بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی(ایم) کی یوتھ وِنگ، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا کے ریاستی جنرل سکریٹری وی کے سَنوج نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص مبینہ جنسی استحصال کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا تھا۔ انہوں نے کہا، ”ہم بار بار بتا رہے ہیں کہ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں کیا ہو رہا ہے ۔ اس نوجوان کی موت آر ایس ایس میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے” ۔ کیرالہ کی وایاناد سے رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پر لکھا:اس(متوفی) نے واضح طور پر کہا کہ وہ واحد متاثرہ نہیں تھا، بلکہ آر ایس ایس کیمپوں میں بڑے پیمانے پر جنسی استحصال ہو رہا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو نہایت ہولناک ہے کیونکہ ملک بھر میں لاکھوں بچے اور نوجوان ان کیمپوں میں شریک ہوتے ہیں”۔انندو آجی نے اپنی پوسٹ میں لکھا :”میں کسی لڑکی، عشق، قرض یا ایسی کسی بات کی وجہ سے خودکشی نہیں کر رہا۔ میں ایسا اپنی بے چینی (anxiety) اور ڈپریشن کے دوروں کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ اپنی دواؤں کی وجہ سے میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے پاتا ہوں ۔ میں کسی سے ناراض نہیں ہوں، سوائے ایک شخص اور ایک تنظیم کے ۔ وہ تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) ہے ، جس میں میرے والد (جو بہت اچھے انسان ہیں) نے مجھے شامل ہونے کو کہا تھا۔ اس تنظیم اور اس شخص دونوں کی وجہ سے سے میری زندگی بھر کی اذیت شروع ہوئی ”۔
انندو نے اپنی موت سے قبل خودکشی کے نوٹ میں لکھاکہ :”بچپن میں مجھے ایک شخص نے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ مجھے آر ایس ایس کے کئی اراکین نے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون تھے ۔ لیکن میں اس شخص کو ضرور بے نقاب کروں گا جس نے میرے ساتھ تب زیادتی کی جب میں صرف 3 یا 4 سال کا تھا۔اس نے بار بار میرے ساتھ زیادتی کی، میرے جسم کے ساتھ بہت کچھ کیا۔ میں اس کے لیے جیسے ایک ‘جنسی کھلونا’ تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ احساس بہت بعد میں ہوا کہ میری ذہنی بیماری کی جڑ یہی زیادتی تھی، جب میری تشخیص OCD (وسواسی اختلال) کے طور پر ہوئی۔ اس سے پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ میرے لیے بھائی جیسا تھا، اور میرے گھر والے بھی اسے رشتہ دار سمجھتے تھے ۔”ان انکشافات کے باوجود بی جے پی کے قومی ترجمان سدھا نشو تریویدی کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے کہ ،”یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ گھناؤنی سیاست ہے جو کانگریس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے کھیل رہی ہے ”۔
سچ تو یہ صد سالہ جشن کے رنگ میں اس سانحہ نے بھنگ ڈال کر اسے برسی کے سوگ میں تبدیل کردیا ہے ۔ آر ایس ایس پر پابندی کے مطالبے کی ابتداحال میں کرناٹک کے وزیر پرینک کھرگے نے کی ۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا پر زور دیا کہ وہ سرکاری اسکولوں، کالجوں اور مندروں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ تنظیم پر نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے ان میں آئین مخالف خیالات کو فروغ دیتی ہے ۔ ملک ارجن کھرگے کے بعد یوگی باباکی ناک تلے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کے موقع پر لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کے انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر نکتہ چینی کی۔اکھلیش یادو نے اعتراف کیا کہ ریاستوں کو متحد کرکے ہندوستان کو اتحاد میں ڈھالنے میں پٹیل کی شراکت داری ناقابلِ فراموش ہے ۔ آج ملک کو ایک بار پھر ان کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے ۔
اکھلیش یادو نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو ہندوستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ اگر وہ واقعی سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خیالات کا احترام کرتے ہیں تو انہیں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا فیصلہ لینا چاہیئے ۔ کانگریس کے قومی صدر کے آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کو درست ٹھہراتے ہوئے اکھلیش یادو بولے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک میں نفرت اور تشدد پھیلا رہے ہیں۔ اسی لیے سردار پٹیل نے اپنے دور میں آر ایس ایس پر پابندی لگا ئی تھی۔ اکھلیش یادو بولے ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی کیوں لگائی تھی؟ ذات پات کے نام پر دلتوں کے خلاف اتنا ظلم کسی اور ملک نے نہیں ہوا ہے ۔ سردار پٹیل کے نظریات کو اپنا تے ہوے مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرہ بنانا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیے بغیر اس مقصد کا حصول ناممکن ہے ۔ اس سوال کا جواب بہت بڑے نفی میں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: آر ایس ایس پر پابندی میں آر ایس ایس آر ایس ایس کے کہ آر ایس ایس آر ایس ایس کی اکھلیش یادو سردار پٹیل سویم سیوک کا مطالبہ کی وجہ سے انہوں نے کے خلاف کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت