Juraat:
2026-07-24@06:01:10 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

آر ایس ایس پر پابندی کتنی ضروری ؟

ڈاکٹر سلیم خان

آر ایس ایس کے حوالے سے کانگریس کے رویہ میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے ۔ پہلے کانگریسی آر ایس ایس سنگھ کا اس طرح نام لے کر مخالفت کرنے سے گریز کرتے تھے مگر اب وہ احتیاط دریا بردہو گیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ساورکر کے معافی نامہ پر تنقید کا آغاز کیا اوراب صدر ملک ارجن کھرگے کھلے عام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی عائدکرنے کا مطالبہ کردیا۔ اس معاملے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی بات کے حق گاندھی یا نہرو کے بجائے سنگھ کے چہیتے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا حوالہ دیتے ہیں۔ وزیر اعظم کو عار دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر واقعی وہ سردار پٹیل کے نظریات کا احترام کرتے ہیں تو ان پر عمل کریں۔وہ مودی کے توسط سے سنگھ پریوار کو یاد دلاتے ہیں سردار پٹیل جی نے ایک خط میں لکھا تھا، کہ گاندھی جی کے قتل پر آر ایس ایس کے اراکین نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ا س نے مزید مخالفت کو ہوا دی اور اسی ان کی حکومت کے پاس آر ایس ایس کے خلاف اقدامات اٹھانے یعنی پابندی لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ کھرگے کے مطابق ”سردار پٹیل کہا کرتے تھے کہ آر ایس ایس کی تقریروں میں فرقہ واریت کا زہر بھرا ہوا ہے ۔ آر ایس ایس کی وجہ سے ہی گاندھی جی کا قتل ہوا”۔انہوں نے الزام لگایا کہ گاندھی جی کو قتل کرنے والے وہی لوگ ہیں جو آج کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں۔
آر ایس ایس کو ایک دو نہیں بلکہ جملہ تین الگ الگ مواقع پر مختصر طور پر ایک غیر قانونی گروپ قرار دیا جا چکا ہے ۔ پہلی بار تو اس وقت جب ناتھو رام گوڈسے نامی سابق سنگھی نے ہندوستان کی آزادی کے ہیرو گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ دوسری مرتبہ پابندی سن 1975میں ایمرجنسی کے دوران پابندی لگائی گئی اور تیسری مرتبہ سن 1993میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھی یہی ہوا۔امسال گجرات کے ایکتا نگر میں اسٹیچو آف یونٹی کے قریب قومی یوم اتحاد پریڈ کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہاکہ ”سردار پٹیل کا ماننا تھا کہ تاریخ لکھنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ تاریخ بنانے کے لیے محنت کرنی چاہیے ”۔بات درا صل یہ کہ سنگھ کی تاریخ اس قدر شرمسار کرنے والی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی پردہ داری کرکے دوسروں کی خاص طور پر مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے میں جٹے رہتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن 1925میں قائم ہونے والی تنظیم آر ایس ایس نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں نہ تو حصہ لیا تھا اور نہ ہی سن 1942میں برطانوی حکومت کے خلاف بھارت چھوڑو” جیسی اہم تحریک میں اس کا کوئی کردار نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ مخبری اور معافی مانگ کر ہمیشہ کے لیے وفاداری کا عہد کرتے رہے ۔
کیرالہ کے ضلع کوٹائم میں جس26 سالہ آئی ٹی پروفیشنل کی خودکشی کا اوپر ذکر کیا گیا اس کی تفصیلات چونکانے والی ہیں ۔ وہ 9 اکتوبر کو ترواننت پورم میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ اس نے انسٹاگرام پر جونوٹ چھوڑا اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسے آر ایس ایس کی ایک شاکھا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کوٹائم میں آر ایس ایس کے دکشن کیرلَم سہ پرانتھ کاریواہ (جنوبی کیرالہ کے ناظم) کے بی سری کمار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہمارے ایک سویم سیوک کی موت افسوسناک اور بدقسمتی کی بات ہے ۔” اسی کے ساتھ خودکشی کے نوٹ میں سنگھ کے خلاف کچھ مشکوک اور بے بنیاد الزامات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کوٹائم پولیس کو دی گئی درخواست میں آر ایس ایس کو پھنسانے کی ایک دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کوشش کی کرکے سنگھ کی شبیہ کو عوام کے سامنے خراب کرنے کی ایک بڑی سازش کا الزام لگایا تھا مگر اس طرح یہ اعتراف تو ہوگیا متوفی انندو سنگھ کا پروردہ تھا۔ مرنے سے قبل جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور سازش کی آڑ میں سنگھ اس الزام سے بچ نہیں سکتا۔
سنگھ کے برعکس بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی(ایم) کی یوتھ وِنگ، ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا کے ریاستی جنرل سکریٹری وی کے سَنوج نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص مبینہ جنسی استحصال کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا تھا۔ انہوں نے کہا، ”ہم بار بار بتا رہے ہیں کہ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں کیا ہو رہا ہے ۔ اس نوجوان کی موت آر ایس ایس میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے” ۔ کیرالہ کی وایاناد سے رکن پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا نے ایکس پر لکھا:اس(متوفی) نے واضح طور پر کہا کہ وہ واحد متاثرہ نہیں تھا، بلکہ آر ایس ایس کیمپوں میں بڑے پیمانے پر جنسی استحصال ہو رہا ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو نہایت ہولناک ہے کیونکہ ملک بھر میں لاکھوں بچے اور نوجوان ان کیمپوں میں شریک ہوتے ہیں”۔انندو آجی نے اپنی پوسٹ میں لکھا :”میں کسی لڑکی، عشق، قرض یا ایسی کسی بات کی وجہ سے خودکشی نہیں کر رہا۔ میں ایسا اپنی بے چینی (anxiety) اور ڈپریشن کے دوروں کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ اپنی دواؤں کی وجہ سے میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے پاتا ہوں ۔ میں کسی سے ناراض نہیں ہوں، سوائے ایک شخص اور ایک تنظیم کے ۔ وہ تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) ہے ، جس میں میرے والد (جو بہت اچھے انسان ہیں) نے مجھے شامل ہونے کو کہا تھا۔ اس تنظیم اور اس شخص دونوں کی وجہ سے سے میری زندگی بھر کی اذیت شروع ہوئی ”۔
انندو نے اپنی موت سے قبل خودکشی کے نوٹ میں لکھاکہ :”بچپن میں مجھے ایک شخص نے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ مجھے آر ایس ایس کے کئی اراکین نے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کون تھے ۔ لیکن میں اس شخص کو ضرور بے نقاب کروں گا جس نے میرے ساتھ تب زیادتی کی جب میں صرف 3 یا 4 سال کا تھا۔اس نے بار بار میرے ساتھ زیادتی کی، میرے جسم کے ساتھ بہت کچھ کیا۔ میں اس کے لیے جیسے ایک ‘جنسی کھلونا’ تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے یہ احساس بہت بعد میں ہوا کہ میری ذہنی بیماری کی جڑ یہی زیادتی تھی، جب میری تشخیص OCD (وسواسی اختلال) کے طور پر ہوئی۔ اس سے پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ میرے لیے بھائی جیسا تھا، اور میرے گھر والے بھی اسے رشتہ دار سمجھتے تھے ۔”ان انکشافات کے باوجود بی جے پی کے قومی ترجمان سدھا نشو تریویدی کا یہ بیان مضحکہ خیز ہے کہ ،”یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ گھناؤنی سیاست ہے جو کانگریس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے کھیل رہی ہے ”۔
سچ تو یہ صد سالہ جشن کے رنگ میں اس سانحہ نے بھنگ ڈال کر اسے برسی کے سوگ میں تبدیل کردیا ہے ۔ آر ایس ایس پر پابندی کے مطالبے کی ابتداحال میں کرناٹک کے وزیر پرینک کھرگے نے کی ۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا پر زور دیا کہ وہ سرکاری اسکولوں، کالجوں اور مندروں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ ان کا الزام ہے کہ یہ تنظیم پر نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے ان میں آئین مخالف خیالات کو فروغ دیتی ہے ۔ ملک ارجن کھرگے کے بعد یوگی باباکی ناک تلے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کے موقع پر لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کے انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر نکتہ چینی کی۔اکھلیش یادو نے اعتراف کیا کہ ریاستوں کو متحد کرکے ہندوستان کو اتحاد میں ڈھالنے میں پٹیل کی شراکت داری ناقابلِ فراموش ہے ۔ آج ملک کو ایک بار پھر ان کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے ۔
اکھلیش یادو نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کو ہندوستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ اگر وہ واقعی سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خیالات کا احترام کرتے ہیں تو انہیں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا فیصلہ لینا چاہیئے ۔ کانگریس کے قومی صدر کے آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کو درست ٹھہراتے ہوئے اکھلیش یادو بولے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک میں نفرت اور تشدد پھیلا رہے ہیں۔ اسی لیے سردار پٹیل نے اپنے دور میں آر ایس ایس پر پابندی لگا ئی تھی۔ اکھلیش یادو بولے ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی کیوں لگائی تھی؟ ذات پات کے نام پر دلتوں کے خلاف اتنا ظلم کسی اور ملک نے نہیں ہوا ہے ۔ سردار پٹیل کے نظریات کو اپنا تے ہوے مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرہ بنانا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیے بغیر اس مقصد کا حصول ناممکن ہے ۔ اس سوال کا جواب بہت بڑے نفی میں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: آر ایس ایس پر پابندی میں آر ایس ایس آر ایس ایس کے کہ آر ایس ایس آر ایس ایس کی اکھلیش یادو سردار پٹیل سویم سیوک کا مطالبہ کی وجہ سے انہوں نے کے خلاف کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟