پنجاب حکومت کی عارضی بنیادوں پر طبی ماہرین بھرتی کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے شعبہ صحت میں عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے عارضی بنیادوں پر طبی ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب اسمبلی نے پنجاب لوکم ہائیرنگ ایکٹ 2025 منظور کر لیا ہے۔
ایکٹ کے تحت لوکم پالیسی کمیٹی قائم کی جائے گی جس کے چیئرپرسن صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ہوں گے اور سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کمیٹی وائس چیئرپرسن کے فرائض انجام دیں گے۔ کمیٹی میں 3فیلڈ کے ماہرین اور ہیومن ریسورس کے ماہرین بھی ممبر ہوں گے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے ویٹ لفٹنگ کے کھلاڑیوں و عہدیداروں پر پابندیاں لگادیں
صحت کے شعبے میں عملے کی کمی کی نشاندہی کرنا، عارضی بھرتیوں کے ٹی او آرز، مدت، تنخواہ اور دیگر مراعات طے کرنا،بھرتیوں کے معاہدے ختم کرنے یا خارج کرنے کی شرائط وضع کرنا، بھرتیاں شفاف طریقہ سے کرنا اور بھرتی کے اشتہارات کم از کم دو اخبارات میں شائع کرنا اور اشتہارات میں بھرتی کا مکمل طریقہ کار واضح کرنا شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ عارضی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے ملازمین مستقل ملازمین کے مراعات کے مستحق نہیں ہوں گے اور مستقل کی درخواست نہیں کر سکیں گے۔ عارضی بھرتیوں کی مدت بڑھانے یا ختم کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کے پاس ہوگا۔
لاہور: سیف سٹی اتھارٹی کا پولیس ڈرونز پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔