کراچی، فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد جاں بحق، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی:
شہرِ قائد کراچی میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔
پہلا واقعہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ یعقوب آباد میں شیشہ مسجد کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 23 سالہ محمد شعیب اقبال جاں بحق ہوگیا۔
چھیپا ریسکیو حکام کے مطابق لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا۔
دوسرے واقعے میں فائرنگ سے ایک اور شخص جاں بحق ہوا جس کی لاش بھی عباسی شہید اسپتال منتقل کر دی گئی ہے تاہم اس کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایک اور فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے شخص کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت شارع مسیح کے نام سے ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔