بلوچستان: فائرنگ کے واقعات میں 2 قبائلی رہنماؤں سمیت 9 افراد ہلاک، 2 ڈرائیور اغوا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
بلوچستان کے اضلاع قلات، نصیرآباد اور جھل مگسی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے، جب کہ 2 ڈرائیورز کو اغوا کر لیا گیا۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق ضلع قلات کے علاقے خالق آباد میں قبائلی رہنما شاکر سعد اللہ لانگو اور ان کے بھائی شاکر خیراللہ لانگو سمیت 4 افراد کو نامعلوم حملہ آوروں نے سر بند کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
لیویز ذرائع کے مطابق دیگر 2 مقتولین کی شناخت محمد کریم اور محمد ظاہر کے نام سے ہوئی ہے، حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے جبکہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایک اور واقعے میں ضلع پنجگور کے علاقے شپستان میں 2 افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں محمد ظفر اور محمد نعیم نامی افراد جاں بحق ہو گئے، ان کی لاشیں ضلعی ہسپتال منتقل کر دی گئیں، قتل کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
ڈیرہ مراد جمالی میں ایک تعمیراتی کمپنی کے 2 ایکسکیویٹر ڈرائیوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے نوتال پولیس اسٹیشن کے قریب اغوا کر لیا۔
ذرائع کے مطابق مغویوں کی شناخت عاشق علی محمد حسنی اور شکیل احمد کورائی کے ناموں سے ہوئی ہے، انہیں ربی کینال صوفی واہ کے قریب سے اغوا کیا گیا، جب کہ ان کی مشینری موقع پر چھوڑ دی گئی، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ان کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ضلع کچھی کے علاقے گوٹھ مصری خان میں مسلح افراد کی فائرنگ سے عبدالقدیر کرد جاں بحق ہو گئے، حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے، پولیس نے لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔
جھل مگسی کے علاقے ہتھیاری میں سولنگی اور وزدانی مگسی قبیلوں کے درمیان زمین کے تنازع پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک شخص، محمد بچل مگسی جاں بحق ہو گیا۔
انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر صورتِ حال پر قابو پا لیا۔
ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے معروف قبائلی رہنما سردار حسین کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا، ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پرنس فہد ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم قتل کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق چاغی ضلع میں صرف اسی ماہ کے دوران فائرنگ کے مختلف واقعات میں 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے علاقے کے مکینوں میں خوف کی فضا بڑھ گئی ہے۔
بلوچستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی ہلاکتوں، قبائلی جھڑپوں اور اغوا کی وارداتوں نے ایک بار پھر صوبے کی نازک سیکیورٹی صورتحال اور مؤثر قانون نافذ کرنے والے اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جاں بحق ہو فائرنگ کے کے علاقے کے مطابق ہو گئے کر دیا
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔