کرپشن اور ناقص تفتیش پر ایف آئی اے کے 10 اہلکار برخاست،2کی تنزلی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )ایف آئی اے نے کرپشن، ناقص تفتیش اور غیر حاضری پر 10 افسران و اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کردیا۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت محکمانہ احتساب کے عمل کے دوران گزشتہ دو ماہ میں کرپشن، بدعنوانی اور ناقص تفتیش میں ملوث 12 افسران کو مختلف سزائیں سنائی گئیں۔

ترجمان کے مطابق دو انسپکٹرز، سات سب انسپکٹرز اور ایک لوئر ڈویژن کلرک کو کرپشن، ناقص تفتیش اور غیر حاضری کے باعث نوکری سے برخاست کر دیا گیا، جب کہ دو انسپکٹرز کی سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی کی گئی۔برخاست اہلکار لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد زون میں تعینات تھے۔ اس کے علاوہ تین انسپکٹرز، دس سب انسپکٹرز، ایک اے ایس آئی، ایک کانسٹیبل، ایک اسسٹنٹ، دو یو ڈی سی اور ایک ایل ڈی سی کو ناقص کارکردگی پر معمولی سزائیں دی گئیں

ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کا کہنا ہے کہ کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں۔ ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مثر احتسابی عمل ہی انسانی سمگلنگ اور کرپشن کے خاتمے کی ضمانت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ کے لیے امریکی امن قرارداد، بین الاقوامی فوج کے اختیارات پر اختلاف کا خدشہ غزہ کے لیے امریکی امن قرارداد، بین الاقوامی فوج کے اختیارات پر اختلاف کا خدشہ افغان طالبان سے مذاکرات جاری، سوشل میڈیا کے کسی بیان پر دھیان نہ دیں: دفتر خارجہ آئینی عدالت کی ممکنہ تشکیل اور جگہ کے انتخاب سے متعلق بڑی پیش رفت تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت،حنیف گوہر کا دعویٰ وزیراعظم آذربائیجان کے یومِ فتح کی 5 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے باکو روانہ پاکستان اور ایران عالمی امن اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں، وزیراعظم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور ناقص تفتیش ایف آئی اے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف