نظام درست کرنے کیلئے کتنے کیسز میں آپ کو بلائیں: چیف جسٹس کا آئی جی سے استفسار
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
لاہور(خبرنگار) چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منشیات کے مقدمے میں ملزم بھائی خان جھارا کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے تفتیشی خامیوں پر اور ناقص تفتیش پر اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ مزید تھانے بنانے سے بات نہیں بنے گی، پولیس کو خود ٹھیک ہونا پڑے گا، تفتیشی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،جس نے مقدمہ درج کیا، اسے ہی تفتیشی بنادیا گیا، حالانکہ تفتیشی افسر کو الگ ہونا چاہیے تھا،عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ استغاثہ جائے اور اس کا مقدمہ لینے سے انکار کر دیا جائے؟آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے موقف اپنایا کہ پولیس کی تفتیش میں کئی خامیاں سامنے آئی ہیں،ایک بندے کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی اسے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ملی بھگت کرنیوالے اے ایس آئی یعقوب کو نوکری سے برخاست کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے مقدمے کی تفتیش تبدیل کردی گئی اور ایس پی اس معاملے کی دوبارہ انکوائری کرے گا، عدالت نے استفسارکیا کہ کتنے کیسز میں آپ کو بلائیں کہ یہ نظام درست ہوسکے؟ پولیس کو اپنی اصلاح خود کرنا ہوگی،آئی جی پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پولیس میں کرپشن اور ناقص تفتیش کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پولیس کے سربراہ ہیں، ان چیزوں پر آپ نے خود کنٹرول رکھنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔