بلیو اکانومی پاکستانی معیشت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بلیو اکانومی معیشت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، فشریز اور ایکوا کلچر میں امکانات کی وسیع دنیا موجود ہے۔
میری ٹائم ایکسپو میں وزیر خزانہ نے اسلام آباد سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری ٹائم ایکسپو اور کانفرنس کے لیے پاک بحریہ اور وزارت بحری امور مبارکباد کے مستحق ہیں، یہ تقریب پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے ڈھائی سال میں ٹھوس اقدامات کیے گئے، افراط زر میں زبردست کمی ہوئی جبکہ پالیسی ریٹ میں بھی کمی لائی گئی۔ تین گلوبل ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کے معاشی اقدامات کی تعریف کی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کی ترقی کے لیے وزارتوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی ہے، وزارت خزانہ معیشت کے استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ تجارت اور معیشت کے استحکام کے لیے دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔