اجرک ڈیزائن والی نئی نمبر پلیٹ لگوانے کی تاریخ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن سندھ نے کراچی کے شہریوں کو اجرک ڈیزائن والی نئی نمبر پلیٹس لگوانے کے لیے مزید دو ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ اب شہری 31 دسمبر 2025 تک اپنی گاڑیوں پر جدید سکیورٹی فیچرز والی نمبر پلیٹس حاصل کرسکیں گے۔ محکمہ ایکسائز نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
اس سے قبل اجرک نمبر پلیٹس لگانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر تھی۔ نئی نمبر پلیٹس میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے گاڑیوں کی شناخت اور ٹریکنگ مزید آسان ہوگی۔
بھارتی نژاد دنیا کی معروف کمپنی کو اربوں کا چونا لگا کر فرار
دوسری جانب، کراچی میں ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد ٹریفک پولیس کی کارروائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ صرف چار روز کے دوران شہر بھر میں 18 ہزار 733 ای چالان جاری کیے گئے، ٹریفک پولیس نے پانچویں دن بھی 4136 الیکٹرانک چالان جاری کیے۔
محکمہ ٹریفک پولیس کے مطابق سب سے زیادہ 2737 چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جاری کیے گئے، جو کہ شہریوں کی جانب سے سب سے عام خلاف ورزی ثابت ہوئی۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان فیصلہ کن ٹی ٹونٹی میچ آج ہوگا
اس کے بعد ہیلمٹ نہ پہننے پر 812 موٹر سائیکل سواروں کو چالان کیا گیا، جبکہ اوور اسپیڈنگ یعنی مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے پر 116 ڈرائیوروں کو جرمانے ہوئے۔
سرخ بتی کا اشارہ توڑنے پر 169 چالان کیے گئے، جبکہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والوں کے خلاف 157 الیکٹرانک چالان جاری کیے گئے۔ اسی طرح ٹنٹڈ گلاسز لگانے والے 56، نو پارکنگ میں گاڑیاں کھڑی کرنے والے 24، اور اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی کرنے والے 20 ڈرائیوروں کو بھی چالان کیا گیا۔
نئے بھرتی کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر ہونے پر بھی پنشن نہیں ملے گی
رپورٹ کے مطابق مسافروں کو گاڑی کی چھت پر بٹھانے پر بھی 20 ڈرائیوروں کو چالان کیا گیا، لین لائن کی خلاف ورزی پر 15، رانگ وے پر چلنے والے 8، اور اوور لوڈنگ کرنے والے 11 ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹس جاری کیے کیے گئے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔