پولیس ’’15‘‘ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ پولیس میں ڈیجیٹلائزیشن اور ساختی اصلاحات کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیرِ صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ایک اہم اجلاس میں پولیس-15 کی کارکردگی، اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی جی سندھ نے اجلاس میں پولیس کے تمام ریسپانس یونٹس، سیف سٹی اور پولیس-15 کو سینٹرلائزڈ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ شہریوں کی پولیس تک فوری رسائی، تیز تر ریسپانس اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی جی سندھ نے ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جیز سیکورٹی و ایمرجنسی سروسز، آئی ٹی اور فائنانس پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کی ہے جو پولیس-15 کی ڈیجیٹلائزیشن، سینٹرلائزیشن، جدید آلات، وہیکلز اور افرادی قوت سے متعلق جامع سفارشات آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔