امریکی کمپنی ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز نے اپنے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک کے لیے ایک ٹریلین ڈالر مالیت کا تاریخی پے پیکیج منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد انہیں اگلی دہائی تک کمپنی کی قیادت میں برقرار رکھنا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹیسلا اپنی توجہ گاڑیوں سے آگے بڑھا کر مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے منصوبوں پر مرکوز کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیکیج کئی سرمایہ کاروں اور ماہرین کی مخالفت کے باوجود بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔

In an era of skyrocketing CEO pay, Tesla shareholders overwhelmingly approved a $1 trillion pay package intended to keep Elon Musk in charge of the company for the next decade.

https://t.co/MvhcZldLmY pic.twitter.com/pxNxKTC4IB

— The Washington Post (@washingtonpost) November 7, 2025

ناقدین کا کہنا ہے کہ مسک کی کچھ سرگرمیوں نے کمپنی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے، تاہم ان کے دورِ قیادت میں ٹیسلا دنیا کی سب سے قیمتی آٹو کمپنی بنی اور مسک دنیا کے امیر ترین شخص قرار پائے۔

آسٹن میں کمپنی ہیڈکوارٹر پر مسک نے بھرپور تالیوں کے درمیان اعلان کیا کہ ٹیسلا کا نیا سفر صرف ایک نیا باب نہیں بلکہ ’نئی کتاب‘ کی شروعات ہے۔

انہوں نے کمپنی کا نیا وژن ’پائیدار فراوانی حاصل کرنا‘ قرار دیا، جو پہلے ’دنیا کو پائیدار توانائی کی طرف منتقل کرنے‘ کے ہدف سے مختلف ہے۔

مزید پڑھیں:

ایلون مسک نے آئندہ منصوبوں میں آپٹیمس ہیومینائیڈ روبوٹ، خودکار سائبر کیب گاڑی اور موجودہ ٹیسلا فلیٹ کو مکمل خودکار بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ روبوٹس مستقبل میں صنعتی، گھریلو اور طبی شعبوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

بورڈ چیئر روبن ڈین ہوم کے مطابق، اس پیکیج کو 75 فیصد سے زائد ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی۔

مزید پڑھیں:

پے پیکیج 12 حصوں پر مشتمل ہے جن میں ہر مرحلہ ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو میں 500 ارب ڈالر کے اضافے یا مخصوص اہداف کے حصول سے منسلک ہے۔

اگرچہ کچھ ماہرین نے اس منصوبے کو ’غیر متوازن اور انتہائی پرخطر‘ قرار دیا، ٹیسلا بورڈ کا مؤقف ہے کہ ایلون مسک کی موجودگی کمپنی کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

یہ پیکیج نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا کارپوریٹ معاوضہ سمجھا جا رہا ہے بلکہ سی ای اوز کی تنخواہوں کے نئے معیار کا آغاز بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپٹیمس ہیومینائیڈ روبوٹ امریکی کمپنی ایلون مسک ٹیسلا خودکار سائبر کیب شیئر ہولڈرز مارکیٹ ویلیو

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی کمپنی ایلون مسک ٹیسلا خودکار سائبر کیب شیئر ہولڈرز مارکیٹ ویلیو ایلون مسک

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا