افغانیوں کو دکان و گھر کرائے پر دینے والے مالکان پر 79 مقدمات درج
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
راولپنڈی ریجن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
آر پی او کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال اور مری پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں، افغان شہریوں کو دکان اور گھر کرائے پر دینے والے مالکان کے خلاف 79 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے لیے طورخم سرحدی گزرگاہ کھول دی گئی۔
ترجمان آر پی او نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم 14342 افغان شہری واپس بھجوائے جا چکے ہیں، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 1523 افغان شہریوں کو ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا جا چکا ہے۔
آر پی او کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری غیر قانونی طورپر مقیم غیر ملکیوں کو مکان، دکان یا گاڑی کرائے پر ہرگز نہ دیں، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی کسی قسم کا کاروبار، خرید و فروخت یا ملازمت نہیں کر سکتے۔
ترجمان آر پی او نے یہ بھی کہا ہے کہ قانونی طور پر مقیم غیر ملکی اپنی رجسٹریشن متعلقہ تھانے میں کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں ا ر پی او
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔