پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ ایم موایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
سٹی42: پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف بڑا قدم اُٹھا لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ آف موویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے تحت ہر زمین کا مالک ہی اپنے حق کا محافظ ہوگا اور کسی کی زمین پر غیر قانونی قبضہ ممکن نہیں رہے گا۔
نئے آرڈیننس کے تحت ہر ضلع میں ڈِسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی قائم کی جائے گی جو عدالت جانے سے پہلے قبضہ کے کیسز کا فوری حل نکالے گی۔ ہر کیس کا فیصلہ صرف 90 دن میں کیا جائے گا اور کمیٹی کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹربیونل میں کی جا سکے گی، جو 90 دن کے اندر اپیل کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
ضلعی کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور دیگر حکام شامل ہوں گے اور 30 دن کے اندر کمیٹیاں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کیس کے فیصلے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرائی جائے گی۔ قبضہ چھڑانے کے لیے پیرا فورس کی خدمات حاصل کرنے کی سفارش پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
شفافیت کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ اور سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اب کوئی کسی کی زمین نہیں چھین سکے گا اور ریاست ہر کمزور کے ساتھ کھڑی ہے۔ "جس کی ملکیت، اسی کا حق ہے، قبضہ مافیا کا باب بند کر دیا گیا"۔
حافظ آباد: بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، مرد و خواتین گتھم گتھا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔