data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251026-8-11
چارسدہ(صباح نیوز)قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائونے کہا ہے کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں کیونکہ خطے کا استحکام امن سے ہی وابستہ ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی لہر کے دوبارہ شروع ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیرپا ئوچارسدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشوں اور موثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی طرح بے امنی دوبارہ جنم نہ لے۔ آفتاب شیرپا ئونے سیاسی قیادت کے تضادات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں تاحال عمران خان کا وژن سمجھ نہیں آیا۔ ایک طرف چیف منسٹر کہتے ہیں کہ وہ عمران خان کے وژن پر کام کر رہے ہیں، مگر دوسری جانب گنڈاپور کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ آخر گنڈاپور کو کیوں ہٹایا گیا؟ کیا وہ کرپٹ تھے یا کسی اور سیاسی دبائو کا شکار ہوئے؟ ان سوالات کے جوابات قوم جاننا چاہتی ہے تاکہ حقائق واضح ہوں اور شفافیت برقرار رہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟