گنڈا پور کو کیوں ہٹایا گیا ؟ کرپٹ تھے یا سیاسی دبائو کا شکار ؟آفتاب شیر پائو
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251026-8-11
چارسدہ(صباح نیوز)قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپائونے کہا ہے کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں کیونکہ خطے کا استحکام امن سے ہی وابستہ ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی لہر کے دوبارہ شروع ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیرپا ئوچارسدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشوں اور موثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی طرح بے امنی دوبارہ جنم نہ لے۔ آفتاب شیرپا ئونے سیاسی قیادت کے تضادات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں تاحال عمران خان کا وژن سمجھ نہیں آیا۔ ایک طرف چیف منسٹر کہتے ہیں کہ وہ عمران خان کے وژن پر کام کر رہے ہیں، مگر دوسری جانب گنڈاپور کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ آخر گنڈاپور کو کیوں ہٹایا گیا؟ کیا وہ کرپٹ تھے یا کسی اور سیاسی دبائو کا شکار ہوئے؟ ان سوالات کے جوابات قوم جاننا چاہتی ہے تاکہ حقائق واضح ہوں اور شفافیت برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔