تعلیمی اداروں کے نزیدک شراب خانے کا قیام قابل مذمت ہے،جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251210-2-10
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش نے آٹو بھان روڈپر تعلیمی اداروں کے نزدیک شراب خانے کے قیام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ماحول اور گنجان آبادی اور مساجد و مدارس کے قریب اس قسم کے غیر اخلاقی مراکز کھولنا ملک و ملت کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اسلامی تشخص، سماجی اقدار اور تہذیبی ورثے کے خلاف کھلی جارحیت کے مترادف ہیں۔ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ نوجوان نسل پہلے ہی بے راہ روی کے گوناگوں خطرات سے دوچار ہے، ایسے میں شراب خانوں کا قیام معاشرتی بگاڑ کو مزید بڑھائے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو فی الفور اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے اس غیر سنجیدہ اور عوام دشمن اقدام کی جامع تحقیقات کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ عوام، والدین، تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور سماجی تنظیمیں اس مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔مرکزی ترجمان نے اعلان کیا کہ جمعیت علما پاکستان اس مسئلے پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی سطح پر ایسے غیر اخلاقی منصوبوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرہ اسلامی اصولوں، اعتدال اور تہذیب و اخلاق کے دائرے میں ہی ترقی کر سکتا ہے اور اسی مقصد کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔