بہروز سبزواری نے پہلی بیوی کے ہوتے دوسری شادی کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان کے سینئر اداکار بہروز سبزواری اپنی بے مثال اداکاری اور صاف گوئی کی بدولت شوبز انڈسٹری میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے خدا کی بستی، تنہائیاں، یوںہی، زندگی گلزار ہے، ہمسفر، خمار سمیت متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی کارکردگی سے ناظرین کے دل جیتے۔
بہروز سبزواری تھیٹر اور ریڈیو میں بھی نمایاں شناخت رکھتے ہیں اور مشہور اسٹیج ڈرامہ تعلیمِ بالغاں میں ان کا کردار آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
فلم نیلوفر میں ان کی اداکاری نے بھی شائقین سے خوب داد سمیٹی۔
حال ہی میں وہ وصی شاہ کے پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ایک سے زائد شادیوں پر کھل کر بات کی۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر کسی مرد کی پہلی اہلیہ زندہ ہو تو وہ اللہ کی بڑی نعمت ہے، چاہے وہ کسی بھی مزاج کی ہو۔
ان کے مطابق پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنا بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزاحاً کہا کہ دوسری شادی کے بعد زندگی کس رخ پر جاتی ہے، وہ یہ بات کہنا بھی نہیں چاہتے۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے اقرار الحسن کی مثال بھی دی جو تین شادیاں کر چکے ہیں۔
بہروز نے بتایا کہ وہ حال ہی میں ایک فلائٹ میں ان کے ساتھ تھے، اسی لیے فوراً ذہن میں آگئے۔
آخر میں انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرنے پر معذرت بھی کی۔
واضح رہے کہ معروف اداکاروں عابد علی، شبیر جان، محمود اسلم سمیت کرکٹر شعیب ملک نے بھی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ