Jasarat News:
2026-06-03@07:36:23 GMT

 سندھ پولیس کی بہادر بیٹی اور میڈیا کی بے حسی

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251213-03-3

 

امیر محمد کلوڑ

’’پارس‘‘ ایک نایاب قیمتی پتھر کا نام ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ: جس چیز کو چھو لے، اسے سونا بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ادبی اور روایتی عقیدہ ہے، حقیقی نہیں۔ اسی لیے ’’پارس‘‘ کو علامتی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے: پارس صفت انسان، وہ شخص جو دوسروں کی زندگی بدل دے، پارس کا پتھر، خوش قسمتی، تبدیلی، قیمتی شے۔  لیکن…  ذرا رکیں…

کیونکہ جو کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں، وہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی دیو مالائی داستان نہیں، یہ حقیقت کا زخمی مگر روشن چہرہ ہے۔ یہ کہانی ہے ڈی ایس پی پارس باکھرانی کی؛ ایک نوجوان خاتون افسر جس نے شکارپور میں ایک ایسے آپریشن کی قیادت کی جو کسی بھی ہالی ووڈ فلم کا سین ہوتا تو میڈیا پاگل ہو جاتا، ٹاک شوز کا خون کھول جاتا، اور اینکرز کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ لیکن یہاں سچائی میں کیا ہوا؟

پارس نے آپریشن کے دوران نو (9) خطرناک ڈاکوؤں کو جہنم واصل کیا۔ گولیاں چلیں، فائرنگ ہوئی، دھواں اٹھا، موت رقص کرتی دکھائی دی… اور اسی آگ کے بیچ پارس اور اس کے شوہر ڈی ایس پی ظہور سومرو خود بھی شدید زخمی ہو گئے۔ آج پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر نو مسلح ڈاکو مارے؟ کتنی خواتین افسران ایسی مثالیں قائم کرتی ہیں؟ کتنے جوڑے ایک ساتھ مقابلہ کرتے ہیں؟ یہ کسی فلم کا سین ہوتا تو میڈیا اسے ’’تاریخی سیکوئنس‘‘ بنا کر دکھاتا۔ مگر ٹوئسٹ یہ ہے کہ یہاں پرانی بیماری پھر جاگ گئی۔

میڈیا کی پرانی بیماری: تعصب، طبقاتی سوچ اور لسانی بالادستی، ہمارا الیکٹرونک میڈیا آج بھی 1980 کی اس ذہنی تقسیم میں پھنسا ہوا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد یہ تین شہر ہمارے میڈیا کے ’’گولڈن سینٹر‘‘ ہیں۔ پارس کا واقعہ شکارپور میں ہوا تھا… ڈیفنس میں نہیں۔ گلشن میں نہیں۔ بحریہ ٹاؤن میں نہیں۔ اس لیے میڈیا کی آنکھوں پر پٹی رہی، کان بند رہے، اور ڈیسک ایڈیٹرز کی ترجیحات وہی رہیں: ’’چھوٹا شہر؟ اندر کا صفحہ دے دو‘‘۔ لیکن اگر کراچی میں دو موبائل چور پکڑے جائیں، یا لاہور میں کسی بائیک والے کو گاڑی ٹکر مار دے، یا پشاور میں کوئی مجرم فرار ہو جائے تو… بریکنگ نیوز، لائیو ٹکر، رپورٹر کی دوڑ، اینکر کی لمبی تقریریں اور اگلے دن ہر اخبار میں ہیڈ لائن مگر سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک لڑکی جی ہاں، لڑکی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نو ڈاکو مار دے؟ تو خبر کس صفحے پر آتی ہے؟ صفحہ نمبر 2 یا 3، ایک تین لائن کی خبر کے ساتھ۔ یہی تعصب اس ملک کے چھوٹے شہروں کے عوام کو میڈیا سے متنفر کر رہا ہے۔ایک دفعہ کراچی میں ایک شیر شاہراہِ فیصل پر نکل آیا تو پورا میڈیا دیوانہ ہو گیا تھا۔ چار چار گھنٹے لائیو کوریج۔ ’’شیر کہاں گیا؟‘‘، ’’شیر اب کس گھر میں گھس گیا؟‘‘یہ شیر کسی وڈیرے کا لگ رہا ہے۔ نہیں یہ کسی سرمایہ کار کا ہوگا مگر یہاں ایک شیرنی ہاں، شیرنی، 9 خونخوار انسان نما درندوں کو مار کر خود زخمی ہو گئی اور ہمارا یہ الیکٹرونک میڈیا تعصب، سرمایہ دارانہ سوچ اور لسانی بالادستی کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ ڈی ایس پی پارس باکھرانی نے نو ڈاکو مارے، خود گولیاں کھائیں، خاوند زخمی ہوا، خون بہا… لیکن میڈیا چینلوں کی بے حسی نہیں ٹوٹی۔ کیوں؟ کیونکہ یہ واقع کراچی سے 500 کلومیٹر دور شکارپور میں پیش آیا۔ بہادری، قربانی اور جذبے کی یہ مثال کسی بھی میڈیا کی ہیڈ لائن بننے کے لیے کافی تھی، لیکن افسوس کہ ہمارے میڈیا نے اسے نظرانداز کیا۔ اور وہ کسی اخبار کے دوسرے یا تیسرے صفحے پر چھوٹی سی خبر بنی، کیونکہ میڈیا کی چمکتی دمکتی دنیا میں تو ریٹنگ کا معاملہ ہوتا ہے تو شکار پور میں ان کو کیا ریٹنگ ملتی، ہم لوگ تو اپنا مفاد عزیز رکھنے والے کامیاب بزنس مین ہیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد یہ تین شہر ہمارے میڈیا کے ’’گولڈن سینٹر‘‘ ہیں۔ ان کے باہر کی خبریں میڈیا کے لیے آکسیجن نہیں، صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہیں۔ لہٰذا قومی میڈیا کی آنکھوں پر پٹی رہی، کان بند رہے، اور ڈیسک ایڈیٹرز کی ترجیحات وہی رہیں: ’’چھوٹا شہر؟ اندر کا صفحہ دے دو‘‘۔ یہی تعصب اس ملک کے چھوٹے شہروں کے عوام کو میڈیا سے متنفر کر رہا ہے۔ اور یہی تعصب معاشرے میں تقسیم بڑھا رہا ہے۔ افسوس یہ کہ صرف ٹی وی چینل نہیں، پرنٹ میڈیا بھی اسی مرض کا شکار ہے۔ ہر بڑے اخبار میں اندرون سندھ کے رپورٹرز کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ایک ’’بڑے شہر‘‘ کے رپورٹر کو حاصل ہوتی ہے۔ خبر کا معیار نہیں، شہر کا نام فیصلہ کرتا ہے کہ خبر صفحہ اوّل پر جائے گی یا نہیں۔ یہی نظام، یہی غیر منصفانہ اسٹرکچر پاکستان کے ہر ہیرو کے چہرے پر دھول جھونکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب ڈی ایس پی پارس باکھرانی جیسا واقعہ سامنے آتا ہے، تو پسماندہ علاقے کے لوگ پوچھتے ہیں: ’’کیا ہماری بہادری کا قصور یہ ہے کہ ہم کراچی یا لاہور یا اسلام آباد میں نہیں رہتے؟‘‘ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ میڈیا کا کردار صرف خبر دینا نہیں، بلکہ ملک کو جوڑنا، احترام دینا، ہمت کو سراہنا اور قومی جذبے کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ لیکن جب میڈیا خود تقسیم کا ذریعہ بن جائے تو پھر معاشرے کا زخم کون بھرے؟

 

امیر محمد خان کلوڑ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈی ایس پی میڈیا کی میں نہیں رہا ہے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود