یورپ کی سڑکوں پر فلسطین کی پکار؛ عالمی ضمیر کی بیداری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-03-7
میر بابر مشتاق
یورپ کے مختلف ممالک میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا سڑکوں پر نکل آنا، دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی شعور کا ایک ایسا اظہار ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کئی ماہ سے غزہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی لپیٹ میں ہے، اور ماؤں، بچوں، بوڑھوں اور عام شہریوں کی لاشیں ملبے تلے سے اُٹھ رہی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر عالمی ادارے، طاقتور ممالک اور اثرو رسوخ رکھنے والی حکومتیں عملی اقدام کے بجائے صرف تشویش، افسوس اور ’سنجیدہ نوٹس‘ جیسے بے معنی بیانات پر اکتفا کر رہی ہیں۔ ایسے میں یورپ کی شاہراہوں، پلوں، چوراہوں اور مرکزی اسکوائرز میں اٹھنے والی انسانی آوازیں اُمید کا ایک روشن چراغ بن کر سامنے آئی ہیں۔ لندن، پیرس، میونخ، ایمسٹرڈیم، برسلز، اوسلو، میلان اور بارسلونا… یہ وہ شہر ہیں جو شام اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دنوں میں عام طور پر پْرسکون تفریحی ماحول کے لیے مشہور ہیں۔ مگر اب ان سڑکوں پر فلسطینی پرچموں کی لہر، احتجاجی نعروں کی بازگشت اور انسانی حقوق کے مطالبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ ہزاروں لوگ صرف کسی سیاسی جماعت، کسی نظریاتی گروہ یا مذہبی وابستگی کے تحت نہیں نکلے بلکہ انسانی تکلیف، معصوم بچوں کی چیخوں اور انسانیت کے نام پر نکلے ہیں۔
بینرز پر لکھے الفاظ “Stop the Genocide”, “Free Palestine, “Ceasefire Now”, “Justice for Gaza” صرف سادہ نعرے نہیں بلکہ دنیا کے اجتماعی شعور کی نمائندگی بن چکے ہیں۔ یہ وہ آواز ہے جو نہ صرف غزہ کے لیے اْٹھی ہے بلکہ ان عالمی اداروں کے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے جو اپنی خاموشی کے باعث انسانی تاریخ کے تاریک ترین واقعات میں شریک ِ جرم بنتے جا رہے ہیں۔
یورپ کی سڑکوں پر نکلنے والے عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ فلسطین صرف عرب دنیا یا مسلم دنیا کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ پوری انسانیت کا درد بن چکا ہے۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں نوجوان، طلبہ، اساتذہ، مزدور، یہودی امن پسند، مسیحی رہنما، انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، خواتین اور بچے شریک تھے۔ اس ملے جلے ہجوم نے ایک اصولی بات پر یکجہتی اختیار کی: انسانیت کو قتل ہونے سے بچایا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری حملے انسانی اصولوں کے خلاف ہیں، اور دنیا کا کوئی قانون چاہے وہ جنیوا کنونشن ہو یا انسانی حقوق کا عالمی چارٹر، بے گناہوں کے اجتماعی قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر اس کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں، ہلاکتوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اور ایک پوری نسل اپنے مستقبل کے ساتھ مٹتی جا رہی ہے۔
یہ سوال آج ہر یورپی ریلی کا مرکزی نعرہ بن چکا ہے کہ عالمی برادری عملی قدم کیوں نہیں اٹھا رہی؟ یورپی مظاہرین واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اور ان پر بین الاقوامی عدالت (ICC) اور اقوام متحدہ کی جانب سے فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف آج کی جنگ نہیں۔ اس کی جڑیں بیسویں صدی کی اوائل میں برطانوی مینڈیٹ اور قومی ریاستوں کے قیام کے پیچیدہ عمل میں پیوست ہیں۔ 1948 کے بعد سے ہونے والی جنگوں اور علاقائی کنٹرول کے تنازعات نے ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس میں اسرائیل؛ اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین کی نظر میں مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم میں ’’قابض فوج‘‘ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج، عالمی طاقتیں اپنی جغرافیائی سیاست، اسلحہ جاتی مفادات اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی کے توازن کے باعث اس تاریخی الجھن میں عملی اقدام سے گریزاں ہیں۔ جب عالمی ادارے سیاسی دباؤ کے سامنے بے بس ہو جائیں، تو عوامی تحریکیں ہی وہ واحد قوت بنتی ہیں جو دنیا کو راستہ دکھاتی ہیں اور یہی قوت یورپ کے گلی کوچوں میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔
رہنماؤں نے اپنی تقریروں میں صرف جذباتی اپیلیں نہیں کیں بلکہ اعداد و شمار، رپورٹوں اور عینی شواہد کے حوالے سے دنیا کو جھنجھوڑا ہے۔ غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ہزاروں عمارتیں، اسکول، مساجد، چرچ، اسپتال اور پناہ گاہیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ یورپ کے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں: اگر اتنے ہی ہلاکتیں کسی یورپی شہر میں ہوتیں تو کیا دنیا کا ردعمل ایسا ہی ہوتا؟ کیا پھر بھی اقوام متحدہ محض ’نوٹس‘ لیتی؟ کیا پھر بھی اسی طرح کی خاموشی ہوتی؟ یہ سوال صرف فلسطین کے لیے نہیں بلکہ عالمی انصاف کے معیار کے حوالے سے بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
یورپ میں ہونے والے مظاہروں کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ احتجاج وقتی نہیں، بلکہ ایک مستقل عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ہر ہفتے لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ چھاؤنیاں قائم ہیں۔ بہت سی جامعات نے اسرائیل کے ساتھ مالی تعاون کے خلاف قراردادیں منظور کر لی ہیں۔ متعدد یورپی پارلیمانوں میں جنگ بندی کی قراردادیں پیش ہو چکی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے: ’’جب تک غزہ میں انصاف نہیں ملتا، ہم آواز اُٹھاتے رہیں گے‘‘۔ یعنی یہ احتجاج ایک عالمی ضمیر کی مہم بن چکا ہے، جسے روکنا اب کسی طاقت کے ہاتھ میں نہیں۔
ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں یہودی تنظیمیں، ربی حضرات اور اسرائیلی نژاد یورپی شہری بھی شریک ہیں۔ ان کا مؤقف بہت واضح ہے: ’’اسرائیل کی جارحیت ہمارے مذہب، ہماری تاریخ اور ہماری اخلاقیات کے خلاف ہے‘‘۔ یہ منظر پوری دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ فلسطین کے لیے آواز اٹھانا کسی قوم، کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ہے۔ اور ظلم ہمیشہ انسانیت کا مشترکہ دشمن ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی، اگرچہ تعداد میں کم، لیکن کچھ آوازیں اسی طرح کے اخلاقی احتجاج کو بلند کر رہی ہیں۔
یورپ میں عوامی احتجاج نے مین اسٹریم میڈیا کو بھی اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کیا ہے۔ وہ رپورٹیں جو پہلے نظر انداز ہو رہی تھیں، اب نمایاں جگہ پا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین، سیاسی تجزیہ کار، اور جنگی رپورٹرز کھل کر اسرائیلی پالیسیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ میڈیا کے اس دباؤ نے کئی ممالک کی حکومتوں کو سخت سوالات کا سامنا کروایا ہے۔ اب یورپی سیاست میں ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے کہ آیا اسرائیل کو غیر مشروط حمایت جاری رکھنا اخلاقی اور جمہوری طور پر درست ہے یا نہیں۔ یورپ میں ہونے والی لاکھوں افراد کی ریلیوں نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ فلسطین اب کوئی ’تنازع‘ نہیں یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ اور جب انسانیت خطرے میں ہو، تو سرحدیں اور قومیتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کے گلی کوچوں میں گونجنے والی آوازیں صرف فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اٹھ رہی ہیں۔ اس بحران میں، اقوام متحدہ کی عدالتوں میں اسرائیل کی قانونی ذمے داریوں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اور انسانی امداد کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یورپ میں اٹھنے والی انسانیت کی یہ آوازیں آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہوں گی۔ دنیا بدل رہی ہے، اور عوام کا اخلاقی دباؤ اب عالمی سیاست کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ احتجاج ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اندھیری راتوں میں بھی امید کے چراغ جلتے رہتے ہیں۔ اور جب لاکھوں لوگ ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں، تو تاریخ کا پہیہ بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ فلسطین کا مسئلہ صرف سیاست نہیں؛ انسانیت کا امتحان ہے۔ اور یورپ کے یہ احتجاج ثابت کر رہے ہیں کہ انسانیت اب بیدار ہو چکی ہے۔ جب تک غزہ میں انصاف نہیں ملتا، دنیا بھر کی سڑکیں خاموش نہیں ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ یہ احتجاج نہیں بلکہ یورپ میں سڑکوں پر نے والے رہی ہیں دنیا کو یورپ کے رہے ہیں ا وازیں کے خلاف کے لیے اور ان میں ہو
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔