City 42:
2026-06-03@05:42:26 GMT

مشہور مصنفہ انتقال کرگئیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

ویب ڈیسک : دیہی انگلینڈ کی محبت اور رشتوں پر مبنی کہانیوں کی معروف مصنفہ 82 سال کی عمر میں اپنے آکسفورڈشائر گھر میں چل بسیں۔

 مشہور برطانوی ناول نگار جویانا ٹرولوپ ( Joanna Trollope)، جنہیں ’’Queen of the Aga Saga‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔جویانا ٹرولوپ اپنی ان کہانیوں کی وجہ سے بے حد مقبول تھیں جن میں وہ دیہی انگلینڈ کی زندگی، محبت، خاندان اور رشتوں کے نازک جذبات کو نہایت سادہ مگر دلکش انداز میں بیان کرتی تھیں۔ان کے ناول خاص طور پر مڈل انگلینڈ کی روزمرہ زندگی کے گرد گھومتے تھے، جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی جذبات اور انسانی رشتوں کی گہرائی دکھائی دیتی تھی۔

 کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی, خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی

انہوں نے اپنے کیریئر میں بے شمار بیسٹ سیلر کتابیں لکھیں، جن میں رہائش، خاندان، دوستی، ازدواجی زندگی اور دیہی معاشرتی مسائل اہم موضوع رہے۔ ان کی تحریروں نے انہیں لاکھوں قارئین میں مقبول بنایا۔

ادبی دنیا نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جویانا ٹرولوپ نے انگریزی ادب میں ایک منفرد اور مضبوط شناخت چھوڑی ہے۔ ان کی کہانیاں آج بھی قارئین کے دلوں میں زندہ ہیں اور طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔

  انگاروں پر چلنے والے آٹھ انسانوں کے ساتھ "سوشل میڈیا انصاف" کے بعد کیا ہوا؟

مصنفہ کی بیٹوں نے ایک بیان میں والدہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ’ ہماری پیاری اور باحوصلہ والدہ جویانا ٹرولوپ 11 دسمبر کو دنیا چھوڑ گئیں۔‘‘ 
جویانا ٹرولوپ، جو وکٹورین دور کے مشہور ناول نگار انتھونی ٹرولوپ کی دُور کی رشتہ دار تھیں، نے ادب کی دنیا میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 8 ملین سے زائد کتابیں دنیا بھر میں فروخت کیں۔
مصنفہ نے اپنے کیریئر کا آغاز فارن آفس اور بطور اُستاد کیا،  1980 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر فل ٹائم لکھنا شروع کیا اور پھر 40 سے زائد کتابیں تحریر کیں جن میں سے 22 ناول بیسٹ سیلر ثابت ہوئے۔ ان کی چھ کتابوں پر مبنی ٹی وی ڈرامے اور فلمیں بھی بنیں۔ ان کا آخری ناول Mum & Dad 2020 میں شائع ہوا۔

موٹروے ایم 5 بند

ادب میں خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1996 میں OBE اور بعد ازاں 2019 میں CBE سے نوازا گیا۔

آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والی جویانا ٹرولوپ کی ذاتی زندگی بھی ان کی کہانیوں کی طرح جذبات اور تجربات سے بھری رہی۔ ان کی دو  شادیاں ہوئیں، پہلے شوہر سے ملاقات  آکسفورڈ میں ہوئی،دونوں نے 1966 میں شادی کی، اُس وقت شوہر پوٹر کی عمر 21 سال اور جویانا کی 22 سال تھی، اس میں سے دو بیٹیاں لوئیس (جواب 51 سال کی ہے اور دوسری بیٹی انٹونیا جو 48 سال کی ہے،

بلغاریہ میں پر تشدد احتجاج، وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا

17 سال بعد 1983 میں دونوں نے علیحدگی اختیار کر لی، بعد میں ان کی ملاقات ٹی وی ڈرامہ نگار ایان کرٹس سے ہوئی جس کے پہلے ہی دو بیٹے تھے،  ایان کرٹس اورجویانا نے  1985 میں شادی کرلی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سال کی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں