ویب ڈیسک : دیہی انگلینڈ کی محبت اور رشتوں پر مبنی کہانیوں کی معروف مصنفہ 82 سال کی عمر میں اپنے آکسفورڈشائر گھر میں چل بسیں۔
مشہور برطانوی ناول نگار جویانا ٹرولوپ ( Joanna Trollope)، جنہیں ’’Queen of the Aga Saga‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔جویانا ٹرولوپ اپنی ان کہانیوں کی وجہ سے بے حد مقبول تھیں جن میں وہ دیہی انگلینڈ کی زندگی، محبت، خاندان اور رشتوں کے نازک جذبات کو نہایت سادہ مگر دلکش انداز میں بیان کرتی تھیں۔ان کے ناول خاص طور پر مڈل انگلینڈ کی روزمرہ زندگی کے گرد گھومتے تھے، جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی جذبات اور انسانی رشتوں کی گہرائی دکھائی دیتی تھی۔
کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی, خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی
انہوں نے اپنے کیریئر میں بے شمار بیسٹ سیلر کتابیں لکھیں، جن میں رہائش، خاندان، دوستی، ازدواجی زندگی اور دیہی معاشرتی مسائل اہم موضوع رہے۔ ان کی تحریروں نے انہیں لاکھوں قارئین میں مقبول بنایا۔
ادبی دنیا نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جویانا ٹرولوپ نے انگریزی ادب میں ایک منفرد اور مضبوط شناخت چھوڑی ہے۔ ان کی کہانیاں آج بھی قارئین کے دلوں میں زندہ ہیں اور طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔
انگاروں پر چلنے والے آٹھ انسانوں کے ساتھ "سوشل میڈیا انصاف" کے بعد کیا ہوا؟
مصنفہ کی بیٹوں نے ایک بیان میں والدہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ’ ہماری پیاری اور باحوصلہ والدہ جویانا ٹرولوپ 11 دسمبر کو دنیا چھوڑ گئیں۔‘‘
جویانا ٹرولوپ، جو وکٹورین دور کے مشہور ناول نگار انتھونی ٹرولوپ کی دُور کی رشتہ دار تھیں، نے ادب کی دنیا میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 8 ملین سے زائد کتابیں دنیا بھر میں فروخت کیں۔
مصنفہ نے اپنے کیریئر کا آغاز فارن آفس اور بطور اُستاد کیا، 1980 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر فل ٹائم لکھنا شروع کیا اور پھر 40 سے زائد کتابیں تحریر کیں جن میں سے 22 ناول بیسٹ سیلر ثابت ہوئے۔ ان کی چھ کتابوں پر مبنی ٹی وی ڈرامے اور فلمیں بھی بنیں۔ ان کا آخری ناول Mum & Dad 2020 میں شائع ہوا۔
موٹروے ایم 5 بند
ادب میں خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1996 میں OBE اور بعد ازاں 2019 میں CBE سے نوازا گیا۔
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے والی جویانا ٹرولوپ کی ذاتی زندگی بھی ان کی کہانیوں کی طرح جذبات اور تجربات سے بھری رہی۔ ان کی دو شادیاں ہوئیں، پہلے شوہر سے ملاقات آکسفورڈ میں ہوئی،دونوں نے 1966 میں شادی کی، اُس وقت شوہر پوٹر کی عمر 21 سال اور جویانا کی 22 سال تھی، اس میں سے دو بیٹیاں لوئیس (جواب 51 سال کی ہے اور دوسری بیٹی انٹونیا جو 48 سال کی ہے،
بلغاریہ میں پر تشدد احتجاج، وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا
17 سال بعد 1983 میں دونوں نے علیحدگی اختیار کر لی، بعد میں ان کی ملاقات ٹی وی ڈرامہ نگار ایان کرٹس سے ہوئی جس کے پہلے ہی دو بیٹے تھے، ایان کرٹس اورجویانا نے 1985 میں شادی کرلی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سال کی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور