اسلام آباد(نیوزڈیسک ) پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی پارٹی آئین میں تبدیلی اور انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پر بیان دیا ہے۔

بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکرز کے بنیادی آئینی حقوق پر ایک اور ڈاکا ڈالنا نامنظور ہے، پی ٹی آئی پر قابض ٹولے نے بار بار جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ اس سے پارٹی کو شدید سیاسی اور قانونی نقصان پہنچا، جعلی انٹرا پارٹی الیکشن نے پارٹی کو 8 فروری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2024ء میں ایک اور جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے گئے، اس جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کو میں نے 5 مارچ 2024ء سے چیلنج کر رکھا ہے، پی ٹی آئی پر قابض ٹولے نے عدالتی ’اسٹے‘ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو فیصلہ سنانے سے روک رکھا ہے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ قابض ٹولے کا پی ٹی آئی کے آئین میں تبدیلی اور انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا ارادہ ہے، یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ 3 مارچ 2024ء کے انٹرا پارٹی الیکشن جعلی اور غیر قانونی تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کے تمام عہدے دار خود ساختہ، غیر قانونی اور پارٹی پر قابض ہیں، ان کا پی ٹی آئی کے وسائل پر کنٹرول بھی غیر قانونی ہے، الیکشن کمیشن سے ٹی آئی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی تحریری درخواست کر چکے ہیں۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کی خود ساختہ قیادت کو مطلع کر چکا ہے کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پی ٹی آئی ورکرز کی امانت ہے، قابض ٹولے نے بار بار اس امانت میں خیانت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ورکرز کو اپنے مذموم سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا گیا، یہ استحصالی سیاست اب مزید نہیں چلے گی، ہم پی ٹی آئی کو شیخ مجیب الرحمٰن کی ایک اور عوامی لیگ نہیں بننے دیں گے۔

پی ٹی آئی کے بانی رکن نے کہا کہ بانی چیئرمین خود مشکلات کے ذمے دار ہیں، ان کی مشکلات سے نجات کا راستہ صرف قانونی ہے، ملک دشمن سیاست نہیں، نظریاتی رہنما اور کارکنان پارٹی پر قابض ٹولے کے مذموم سیاسی عزائم کا سیاسی اور قانونی محاذ پر مقابلہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جعلی انٹرا پارٹی الیکشن اکبر ایس بابر نے پی ٹی ا ئی کے قابض ٹولے نے کہا کہ ایک اور

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن