پی ٹی آئی ورکرز کے حقوق پر ایک اور ڈاکا منظور نہیں: اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک ) پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی پارٹی آئین میں تبدیلی اور انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پر بیان دیا ہے۔
بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکرز کے بنیادی آئینی حقوق پر ایک اور ڈاکا ڈالنا نامنظور ہے، پی ٹی آئی پر قابض ٹولے نے بار بار جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ اس سے پارٹی کو شدید سیاسی اور قانونی نقصان پہنچا، جعلی انٹرا پارٹی الیکشن نے پارٹی کو 8 فروری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2024ء میں ایک اور جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے گئے، اس جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کو میں نے 5 مارچ 2024ء سے چیلنج کر رکھا ہے، پی ٹی آئی پر قابض ٹولے نے عدالتی ’اسٹے‘ کے ذریعے الیکشن کمیشن کو فیصلہ سنانے سے روک رکھا ہے۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ قابض ٹولے کا پی ٹی آئی کے آئین میں تبدیلی اور انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا ارادہ ہے، یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ 3 مارچ 2024ء کے انٹرا پارٹی الیکشن جعلی اور غیر قانونی تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کے تمام عہدے دار خود ساختہ، غیر قانونی اور پارٹی پر قابض ہیں، ان کا پی ٹی آئی کے وسائل پر کنٹرول بھی غیر قانونی ہے، الیکشن کمیشن سے ٹی آئی کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی تحریری درخواست کر چکے ہیں۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کی خود ساختہ قیادت کو مطلع کر چکا ہے کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، پی ٹی آئی ورکرز کی امانت ہے، قابض ٹولے نے بار بار اس امانت میں خیانت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ورکرز کو اپنے مذموم سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا گیا، یہ استحصالی سیاست اب مزید نہیں چلے گی، ہم پی ٹی آئی کو شیخ مجیب الرحمٰن کی ایک اور عوامی لیگ نہیں بننے دیں گے۔
پی ٹی آئی کے بانی رکن نے کہا کہ بانی چیئرمین خود مشکلات کے ذمے دار ہیں، ان کی مشکلات سے نجات کا راستہ صرف قانونی ہے، ملک دشمن سیاست نہیں، نظریاتی رہنما اور کارکنان پارٹی پر قابض ٹولے کے مذموم سیاسی عزائم کا سیاسی اور قانونی محاذ پر مقابلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جعلی انٹرا پارٹی الیکشن اکبر ایس بابر نے پی ٹی ا ئی کے قابض ٹولے نے کہا کہ ایک اور
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز