ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 میں ترامیم کا بل پنجاب اسمبلی سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 میں ترامیم کا بل پنجاب اسمبلی سے منظور کرلیا گیا۔
پنجاب ایمرجنسی سروس (ترمیمی) ایکٹ 2025 گزشتہ روز کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔
ترمیم کے تحت پنجاب ایمرجنسی کونسل کے وائس چیئرمین کے محکموں میں تبدیلی کی گئی ہے، وزیر قانون کی جگہ وزیر ایمرجنسی سروس کو وائس چیئرمین تفویض کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ترمیم سیکشن 6 کی شق (aa) میں کی گئی، محکمہ کے انتظامی کی درخواست پر ترمیم تجویز کی گئی۔
ترمیم کا مقصد ایمرجنسی سروسز انتظام کو مؤثر بنانا ہے، بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمرجنسی سروس
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔