شمشان گھاٹ کی اراضی محکمہ تعلیم کو کیسے الاٹ کردی گئی، جسٹس حسن رضوی کا اظہار حیرت
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے متروکہ وقف املاک کی پنجاب کے محکمہ تعلیم کو الاٹمنٹ سے متعلق اہم کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیصلہ کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا ہے۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے قرار دیا کہ یہ تنازعہ وفاق اور صوبے کے درمیان کسی حکومتی اختلاف کے زمرے میں نہیں آتا، لہٰذا اس کا جائزہ متعلقہ ہائیکورٹ ہی لے سکتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ متروکہ وقف املاک کو محکمہ تعلیم کو الاٹ کرنا 2 حکومتوں کے درمیان تنازعہ نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات کی جانب اہم قدم، آئینی عدالت کی ملک گیر توسیع کا منصوبہ
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کی ارتھی جلانے کی اراضی یعنی شمشان گھاٹ محکمہ تعلیم کو کیسے الاٹ کردی گئی۔
مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ 1989 میں الاٹ کی گئی زمین پر اب تک تعمیرات ہو چکی ہوں گی۔
جسٹس حسن رضوی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے متروکہ املاک کو محکمہ تعلیم کو کیسے الاٹ کیا۔
انہوں نے دریافت کیا کہ متروکہ وقف املاک کے ادارے نے اس الاٹمنٹ پر خود کیا ایکشن لیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اپیل وفاقی حکومت کے نام سے کیوں دائر کی گئی جب کہ مسئلہ بین الحکومتی تنازعہ بنتا ہی نہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے مؤقف لینے کے لیے مہلت مانگی، جب کہ متروکہ وقف املاک اور پنجاب حکومت کے نمائندوں نے عدالت کی تجویز پر رضامندی ظاہر کردی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہائیکورٹ نئے سرے سے کیس سن کر فیصلہ کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت پنجاب جسٹس حسن رضوی لاہور ہائیکورٹ متروکہ وقف املاک محکمہ تعلیم وزیر اعلیٰ پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت جسٹس حسن رضوی لاہور ہائیکورٹ متروکہ وقف املاک محکمہ تعلیم وزیر اعلی پنجاب متروکہ وقف املاک محکمہ تعلیم کو جسٹس حسن رضوی کے لیے
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر