برسلز: محسن نقوی کی یورپی کمشنر برائے داخلہ سے ملاقات، غیر قانونی امیگریشن پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلہ امور و مائیگریشن سے برسلز میں ملاقات ہوئی، ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام سے متعلق گفت گو ہوئی۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت بھی ہوئی۔
اس موقع پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں 1 ہزار 770 انسانی اسمگلرز اور ان کے ایجنٹس گرفتار ہوئے۔
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن، انسانی اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنائے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسمگلرز، ڈرگ مافیا اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ملک کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔