پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی ازسرنو تشکیل، علی امین گنڈاپور شامل نہیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی سیاسی کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام شامل نہیں ہے، کمیٹی کی تشکیل بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور رہنما فردوس شمیم نقوی نے کی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی نئی سیاسی کمیٹی میں مجموعی طور پر 23 سینئر رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے،کمیٹی کی قیادت چیئرمین گوہر علی خان اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کریں گے۔
فہرست میں شامل نمایاں شخصیات میں فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سابق قومی اپوزیشن لیڈر عمر ایوب شامل ہیں۔
اسی طرح سابق سینیٹ اپوزیشن لیڈر شبلی فراز، پنجاب اسمبلی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر، اوورسیز چیپٹر کے سیکریٹری سجاد برکی، پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ، جنید اکبر، حلیم عادل شیخ اور داؤد کاکڑ کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی خالد خورشید اور سردار قیوم نیازی کریں گے جبکہ سابق اسپیکر اسد قیصر، چیف وہپ قومی اسمبلی عامر ڈوگر، سینیٹ کوآرڈینیٹر فوزیہ ارشد، خواتین ونگ کی صدر کنول شوزب اور اقلیتی ونگ کے صدر لال چند ملہی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سیاسی کمیٹی پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہوگی، جو تمام پالیسی سازی، اہم سیاسی فیصلوں اور پارلیمانی پارٹیوں کے لیے رہنما اصول مرتب کرے گی، ضرورت کے مطابق کمیٹی میں نئی شمولیت یا اسمیں تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
نئی فہرست میں علی امین گنڈاپور کی عدم موجودگی نے اندرونی سیاسی حلقوں میں اہم سوالات کو جنم دیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق مزید نام کمیٹی میں شامل ہونے کا امکان موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سیاسی کمیٹی گیا ہے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل