ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ مشتاق قتل کیس میں ملزمان کی جانب سے واردات کے لیے 30 لاکھ روپے ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

ایبٹ آباد پولیس نے نامزد ملزمان کے مالی معاملات کی جانچ کے لیے ایف آئی اے کو خط ارسال کردیا ہے۔

واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے قتل کیس میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر کو کس طرح قتل کیا گیا، اہم انکشافات سامنے آگئے

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ملزمان میں ڈاکٹر ودرہ کی دوست سمیت تین ملزمان شامل ہیں۔

ڈی پی او ہارون الرشید نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ کو قتل کر کے ٹھنڈیانی کے قریب دفنایا گیا تھا، وردہ کو بظاہر گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

پولیس تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست ردا کے پاس امانتاً رکھوایا تھا، وردہ نے واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمہ نے ٹال مٹول سے کام لیا، ملزمہ نے سونا گروی رکھ کر 50 لاکھ روپے کی رقم بھی حاصل کر رکھی تھی۔ 4 دسمبر کو ملزمہ سونا واپس کرنے کا کہہ کر ڈاکٹر وردہ کو اسپتال سے اپنے ساتھ لے کر گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر وردہ ایبٹ آباد

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا