ایبٹ آباد کی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغواء و قتل کیس میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد کی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغواء و قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ڈاکٹر وردہ مشتاق کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ڈاکٹر وردا کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی،موت گلا دبانے اور سانس بند ہونے سے ہوئی، جسم پر تشدد کے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کر کے قتل کیا گیا۔
ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مقتولہ نے اپنی سہیلی ردا کے پاس دو سال پہلے 67 تولے سونا امانت رکھا تھا جس کی واپسی کی ڈیمانڈ پر اسے بیدردی سے قتل کر دیا گیا، مقتولہ کو اغواء کے روز ہی قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس نے ملزمہ کے خاوند بلے دی ہٹی کے مالک وحید کو بھی ملزم نامزد کرکے گرفتار کرلیا ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں اور دہشتگردی کی عدالت میں ملزمان کو پیش کرکے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیاہے۔
غفلت کے مرتکب ایس ایچ او کینٹ کو معطل کردیا گیاہے، واقعہ کے خلاف ڈی ایچ کیو اسپتال کے ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے۔ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال ایبٹ آباد میں بند کی گئی ایمرجنسی سروسز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایبٹ آباد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔