میانمار میں فوج کی وحشیانہ کارروائی، رخائن کے اسپتال پر فضائی حملہ، 31 ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میانمار کی فوج نے اپنی ریاست رخائن کے شہر مروک او میں واقع اسپتال پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق اور 68 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق زخمیوں میں اسپتال میں زیر علاج افراد شامل ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
میانمار کی فوج نے 28 دسمبر کو انتخابات کے آغاز کا اعلان کیا ہے، تاہم جمہوریت کے حامی اور باغی گروہ اس عمل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2021 میں میانمار میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرچکی ہے، اور تب سے ملک شدید خانہ جنگی کا شکار ہے۔
فوج کی جانب سے مختلف گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں معمول بن گئی ہیں، اور اسپتال پر یہ حملہ اس خوفناک رجحان کا تازہ ثبوت ہے۔ اس واقعے نے عالمی انسانی حقوق کی برادری میں تشویش بڑھا دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔