وفاق میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی ہے، وزیر اعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا جہاں طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی نے جامعہ پشاور کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وفاق میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایچ پی کی مد میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں۔ این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ واٹر چارجز کی مد میں بھی اربوں روپے بقایا ہیں۔ یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کو رعائتی نرخوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔
وزیر اعلی نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا اور اکنامکس ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس اور ائی ایم سٹڈیز کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن کا بھی اعلان کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔