پشاور میں پی ٹی آئی سینیٹر خرم ذیشان کے سسرال پر مسلح افراد کا حملہ، ملازم شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں پی ٹی آئی کے سینیٹر خرم ذیشان کے سسرال پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں گھریلو ملازم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تھانہ تاتارا کی حدود حیات آباد میں پی ٹی آئی کے سینیٹر خرم ذیشان کے سسر کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گھریلو ملازم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا جبکہ گھر کو بھی نقصان پہنچا۔
مسلح افراد کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ سے لوگوں میں شدید خوف وہراس پیدا ہوگیا تھا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف فائرنگ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ فیز 2 سیکٹر ایچ 3 میں پیش آیا ہے جہاں اظہر حسین بخاری ولد سید مبارک حسین بخاری نے پولیس کو رپورٹ کی کہ وہ گھر میں موجود تھے اس دوران ہمارے بنگلے پر نامعلوم افراد نے اچانک فائرنگ شروع کردی۔
ایف آئی آر کے مطابق گھریلو ملازم ابصار احمد گولی لگنے سے زخمی ہوگیا اور گولیاں گھرکو بھی لگیں اور گھر کے سامان کو بھی نقصان پہنچا۔
مدعی نے بتایاکہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ واقعہ کی اطلاع پر ڈی ایس پی حیات آباد محمد جنید کھرل ایس ایچ او سمیت دیگر افسران کے ہمراہ پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لیا جبکہ جائے وقوعہ سے پولیس نے شواہد اکھٹے کیے۔
پولیس نے موقع سے 20 سےزائد گولیوں کے خالی خول برآمد کرکے مقدمہ درج کرلیااورمزید تفتیش شروع کردی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پی
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔