پی ٹی آئی سینیٹر خرم ذیشان کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ، ملازم زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صوبائی دارالحکومت پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پر رات گئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق پولیس کاکہنا ہے کہ یہ واقعہ رات ڈھائی بجے کے لگ بھگ پیش آیا ہے جب چار سے پانچ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے خرم ذیشان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اس دوران فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق شدید فائرنگ کے نتیجے میں مکان میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اسے نقصان پہنچا۔جس وقت یہ حملہ ہوا اُس وقت سینیٹر خرم ذیشان گھر پر موجود نہیں تھے۔
پشاور کے پولیس افسر فرحان خان نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کون تھے تاہم اس بارے میں رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سینیٹر خرم ذیشان کا کہناتھا کہ کہ یہ اُن کے سسر کا مکان ہے جہاں وہ اُن کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔اس واقعے کی ایف آئی آر اُن کے کزن کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔ واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پانچ گاڑیوں میں لگ بھگ 20 سے 25 افراد آئے تھے اور ان کی فائرنگ سے ان کے ایک ملازم کو کمر میں گولی لگی ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق خرم ذیشان پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے فیز 2 کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہیں۔خرم ذیشان اکتوبر 2025 میں سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔ یہ نشست شبلی فراز کو عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کی بعد خالی ہوئی تھی اور خرم ذیشان اس الیکشن میں کامیاب قرار پائے تھے۔
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک ساتھ اچھی اور بُری خبر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر خرم ذیشان
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں