فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے ‘یہ لوگ پھر اقتدار چاہتے ہیں‘وزیر مملکت برائے داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پاک فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے یہ لوگ پھر کسی کاندھے کے ذریعے اقتدار چاہتے ہیں۔ اپنے وڈیو بیان میں طلال چودھری کا کہنا تھا عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی جلسے میں ان کا حال دیکھ لیا ہے، پشاور جلسے میں سوائے گالم گلوچ اور تنقید کے کچھ نہیں تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے بارے میں جو باتیں محاورتاً بولیں پشاور کے جلسے میں ثابت ہو گیا کہ یہ اصل میں وہی ہیں۔ طلال چودھری کا کہنا تھا کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے والے آج اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں اداروں پر الزام تراشی کی گئی، ہر روز بانی پی ٹی آئی کے ایکس ہینڈل سے ملکی اداروں کیخلاف بے جا تنقید کی جاتی ہے، کب تک کوئی خاموشی اختیار کر سکتا ہے۔ وزیر مملکت نے پی ٹی آئی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میل کرنے کے لیے کی جارہی ہے، یہ دوبارہ کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، خود کو سب سے ضروری اور ناگزیر سمجھنے والا ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے، اب بات چیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا یہ لوگ اڈیالہ جیل میں قید دوسرے قیدیوں کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں، یہ اگر اب اڈیالہ کے باہر تماشہ کریں گے، جیل میں قید دوسرے قیدیوں کے لیے خطرہ بنیں گے تو قیدی کو وہاں رکھا جائے گا جہاں وہ محفوظ ہوں، شعبدہ بازوں کو بتایا جائے گا کہ قانون کی عملداری کیسے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا اس جماعت کا وتیرہ ہے کہ پاکستان کے اداروں پر تنقید کی جائے، ذہنی مریض کبھی بھی ملک کے حق میں بات نہیں کرے گا، ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا، کندھے نہ ہوتے تو آپ تو وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے، جو ہری پور کا الیکشن نہیں جیت سکتے وہ لاہور اور فیصل آباد میں کیا مقابلہ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر مملکت پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔