پنجاب بڑی تباہی سے بچ گیا:’ ’را‘‘ کے 12 دہشت گرد گرفتار‘ حساس مقامات‘اداروں کی تصاویر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور بڑی تباہی سے بچ گئے جبکہ سی ٹی ڈی پنجاب نے بھارتی دہشت گرد ایجنسی را کے 12 دہشت گردوں کو بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، آئی ڈی بم اور نقدی سمیت گرفتار کر لیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا کہ گرفتار را کے دہشت گردوں کے قبضے سے حساس مقامات اور حساس اداروں کی تصویریں وڈیو لوکیشن بھی برآمد کر لی گئی، فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے ایک مدرسے اور ایک میلے کی تصویریں وڈیو اور لوکیشن بھی برآمد ہوئی۔ فیصل آباد سے گرفتار دہشت گرد پنجاب میں خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ مذہبی منافرت بھی پھیلانا چاہتے تھے۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا کہ لاہور سے گرفتار را کے دہشت گردوں میں سکھ دیپ سنگھ،عظمت، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان، سرفراز جبکہ فیصل آباد سے دانش شامل ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے کہا کہ بہاولپور سے گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں میں رجب، ہاشم ، ثاقب اور عارف شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے عادل نامی ایک فیس بک آئی ڈی جو کہ انڈیا میں را آپریٹ کر رہی تھی، اس کی مدد سے دہشت گردوں کو گرفتار کیا، فتنہ الہندوستان کا دہشت سکدیپ سنگھ پیدائشی کرسچن تھا جس نے کچھ عرصہ قبل اپنا مذہب تبدیل کیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا کہ گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو بھارتی دہشت گرد ایجنسی را سے بھاری فنڈنگ بھی کی جاتی تھی، فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گردوں کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے آئی ای ڈی بم، 7 ڈیٹونیٹر، 2 حفاظتی فیوز وائر 102 فٹ ، موبائل نقدی اور اسلحہ برآمد کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے ترجمان سی ٹی ڈی کے دہشت گردوں دہشت گردوں کے
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔