جکارتا ، 7 منزلہ عمارت میں آتشزدگی، 20 افراد جاں بحق، متعدد لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
انڈونیشیا (ویب ڈیسک) دارالحکومت جکارتا میں 7 منزلہ عمارت میں آگ لگ گئی۔پہلی منزل میں بھڑکنے والی آگ نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق آتشزدگی میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ پہلی منزل میں بھڑکنے والی آگ نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، آگ پر قابو پالیا گیا، ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔
پولیس نے بتایا کہ آگ دوپہر کے وقت شروع ہوئی جب وسطی جکارتہ میں 7 منزلہ دفتر کی عمارت کی پہلی منزل پر لگی بیٹری پھٹ گئی اور آگ اوپری سطح تک پھیل گئی۔ اب تک، 20 متاثرین کو نکال لیا گیا ہے، جن میں پانچ مرد اور 15 خواتین شامل ہیں۔
حکام کے مطابق زیادہ تر متاثرین جھلسنے کا شکار نہیں لگ رہے تھے اور غالباً دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس اسپتال پہنچایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔