امریکہ، پاکستان کا دیرینہ سکیورٹی تعاون بہت اہم: ناظم الامور
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ، خبرنگار) امریکی ناظم الامور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کا دیرینہ سکیورٹی تعاون بہت اہم ہے۔ پاک امریکہ تعلقات صدر ٹرمپ کے دور میں مزید مضبوط ہوئے۔ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی شعبوں میں تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار یو ایس ای ایف پی کے لئے مستقل عمارت قائم کی گئی ہے۔ نئی عمارت تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقاتی سرگرمیوں کیلئے جدید سہولیات سے راستہ ہے۔ عمارت پاکستان اور امریکہ کی دیرینہ تعلیمی شراکت داری کی علامت ہے۔ طلباء کو آن لائن کتابوں تک رسائی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے اور تحقیق کیلئے رہنمائی آن سائٹ دستیاب ہو گی۔ عمارت میں فلم سکریننگ ثقافتی پروگراموں اور سیمینارز کے لئے جدید آڈیٹوریم قائم کیا گیا۔ طلباء کیلئے تھری ڈی پرنٹنگ پوڈکاسٹ اور سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کی تربیت کا بندوبست ہے۔ اسلام آباد سے خبرنگار کے مطابق پاک-امریکہ تعلیمی شراکت داری کی مضبوطی کیلئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نییو ایس ای ایف پی کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا امریکی ناظم الامور (سی ڈی اے) نیٹلی اے بیکر نے وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر کے ہمراہ اسلام آباد میں یوایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کی ایک نئی عمارت کا افتتاح کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ناظم الامور
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔