Islam Times:
2026-07-24@08:32:12 GMT

امریکہ کی ناکامی اور دلدل میں دھنستا عالمی سامراج(2)

اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT

امریکہ کی ناکامی اور دلدل میں دھنستا عالمی سامراج(2)

اسلام ٹائمز: پچھلے ہفتے، آپ نے دیکھا کہ امریکی نیشنل گارڈ کے دو سپاہی وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں قتل ہوئے، جو افغانستان میں امریکی انٹیلیجنس سروس میں بھرتی ہوا تھا اور وہ امریکہ کے کرائے کے قاتلوں میں سے ایک تھا۔ ادھر امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق تازہ دستاویز اس حقیقت کو کھل کر ثابت کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کے دعوؤں کے برعکس، امریکہ اب دنیا میں معاشی اور فوجی برتری کھو چکا ہے اور زوال کے راستے پر گامزن ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، امریکہ کی قومی سلامتی کی یہ دستاویز جو ہر چار سال بعد جاری کی جاتی ہے اور جسے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے، درحقیقت عالمی نظام پر امریکہ کی کم ہوتی ہوئی حیثیت کا واضح ثبوت ہے۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ہم اس آرٹیکل کے پہلے حصے میں دو اہم شعبوں یعنی ملکی اور عالمی میدان میں امریکہ کے زوال کی نشانیوں کا ذکر کرچکے ہیں۔ اس قسط میں دفاع، خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کے میدان میں امریکہ کی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔

تیسرا، دفاع کے میدان میں
1۔ امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہاز کسی زمانے میں اتنے خوفناک اور طاقتور سمجھے جاتے تھے کہ ان میں سے کوئی ایک اگر کسی ملک کی طرف حرکت کرتا تو وہاں کی حکومت امریکی بیڑوں کے قریب پہنچنے سے پہلے سقوط کر جاتی۔ امریکہ کے یہ پانچ بحری جہاز، جن کو درجنوں جنگی جہازوں کی مدد حاصل تھی، یمن سے لڑنے کے لیے بحیرہ احمر میں آئے اور ان میں سے ہر ایک یمنی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنا اور بھاری مالی و جانی نقصان اٹھانے کے بعد، یہ دیو ہیکل بحری جہاز یمن سے ہزاروں کلومیٹر دور، امریکہ کے ساحلوں کی طرف بھاگ گئے۔

2۔ اس سے پہلے دنیا نے افغانستان میں ایک شرمناک فرار کا مشاہدہ کیا۔ امریکی فوج ایسے عالم میں افغانستان سے بھاگی کہ امریکہ کے آڈیٹر جنرل کے آفس کی رپورٹ کے مطابق اپنے پیچھے 200 ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے، 8000 ملٹری ٹرک، 20000 ٹیکٹیکل گاڑیاں، 640,000 رائفلیں، 16000 وائرلیس وغیرہ چھوڑ گئی۔ ٹرمپ کی تقریر کے مطابق ہم نے افغانستان میں 5 ارب ڈالر کی مالیت کے ہتھیار چھوڑے ہیں۔
 3۔ بارہ روزہ جنگ میں ایرانی میزائلوں کے العدید اڈے پر گرنے کے فوراً بعد امریکہ نے  شکست کے خوف سے سفید جھنڈا بلند کر دیا۔

چہارم، خارجہ پالیسی کے میدان میں
 امریکہ جس سے پہلے صرف دنیا کی آزادی پسند حکومتیں نفرت کرتی تھیں، اب یورپ کی استعماری حکومتوں حتیٰ کہ اس کے پڑوسیوں اور قریبی دوستوں میں بھی امریکہ الگ تھلگ، بے دخل اور منفور نظر آتا ہے۔ یہ ہم خواب نہیں دیکھ رہے ہیں، یہ حقیقت ہے۔ چند اور مثالیں بھی قابل ذکر ہیں۔
1۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے ایک سرکاری تقریر میں "امریکہ کے بغیر دنیا" کے بارے میں بات کی۔
2۔ فرانس کا صدر باضابطہ طور پر امریکہ سے آزاد یورپ کی حفاظت کا بیانیہ دہراتا ہے۔
3۔ یورپی حکومتوں نے متفقہ طور پر یوکرین کے لیے امریکی منصوبے کو سخت ترین لہجے میں مسترد کر دیا۔
4۔ یوکرین کے صدر نے ٹرمپ کے منصوبے کو یوکرین کے قومی مفادات کے ساتھ غداری قرار دیا۔

پانچواں، داخلی سلامتی کے میدان میں
1۔ امریکی جو ہر دوسرے دن کسی ملک میں بغاوتوں اور حکومتوں کو الٹنے سے ملک کے حالات خراب کرتا تھا، آج امریکی سرزمین پر اس کے اپنے صدر کی جان لینے کی کوشش کی گئی۔
2۔ چارلی کرک، جو ٹرمپ کی یوتھ مہم کے ہیڈکوارٹر کا سربراہ تھا، قتل کر دیا گیا۔
3۔ ریاستہائے متحدہ کے صدر ہر روز فوج کے ساتھ مل کر کسی ریاست میں سکیورٹی کے قیام کے لیے مہم چلاتے ہیں اور اس مہم کو جواز بناتے ہوئے وہ میڈیا میں کہتے ہیں: "تنقید کرنے کے بجائے، آپ کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیئے، کیونکہ ان ریاستوں میں نیشنل گارڈ کی مداخلت سے پہلے عدم تحفظ اس قدر زیادہ تھا کہ آپ اپنی بیوی اور بچے کو ویک اینڈ پر کسی ریسٹورنٹ میں لے جانے کی ہمت نہیں کرسکتے تھے۔

4۔ پچھلے ہفتے، آپ نے دیکھا کہ امریکی نیشنل گارڈ کے دو سپاہی وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں قتل ہوئے، جو افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس سروس میں بھرتی ہوا تھا اور وہ امریکہ کے کرائے کے قاتلوں میں سے ایک تھا۔ ادھر امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق تازہ دستاویز اس حقیقت کو کھل کر ثابت کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کے دعوؤں کے برعکس، امریکہ اب دنیا میں معاشی اور فوجی برتری کھو چکا ہے اور زوال کے راستے پر گامزن ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کے مطابق، امریکہ کی قومی سلامتی کی یہ دستاویز جو ہر چار سال بعد جاری کی جاتی ہے اور جسے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے، درحقیقت عالمی نظام پر امریکہ کی کم ہوتی ہوئی حیثیت کا واضح ثبوت ہے۔

معروف ایرانی صحافی مسعود براتی کے مطابق، اس دستاویز کے آغاز میں ہی ٹرمپ حکومت نے ماضی کی امریکی عالمی پالیسیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کی صلاحیت کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ دستاویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک وسیع رفاہی و انتظامی نظام اور عظیم فوجی، سفارتی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کو سنبھالنا امریکہ کی طاقت سے بڑھ کر تھا۔ دستاویز میں آزاد تجارت کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے امریکہ میں متوسط طبقے کی تباہی اور معاشی و فوجی برتری کے خاتمے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ اب عالمی سطح پر اپنی معاشی اور فوجی برتری برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

مسعود براتی کے مطابق، جن پالیسیوں کو یہ دستاویز غلط قرار دے رہی ہے، وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اور خصوصاً سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکی تسلط کی بنیاد سمجھی جاتی تھیں۔ اب ٹرمپ حکومت کی دستاویز واضح طور پر امریکہ کو اندرونی مسائل کی طرف مرکوز کرنے کی بات کرتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ حکومت خود امریکہ کو اس قدر طاقتور نہیں سمجھتی کہ وہ پرانی عالمی حکمت عملی کو جاری رکھ سکے۔ اس دستاویز میں مغربی ایشیاء (مشرق وسطیٰ) سے متعلق پالیسی میں بھی اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ اب یہ خطہ امریکی خارجہ پالیسی کا محور نہیں رہا اور خطے میں جاری طویل جنگوں اور "قوم سازی" (Nation Building) کے منصوبوں کے خاتمے کا اعتراف کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ کی قومی سلامتی قومی سلامتی کی افغانستان میں خارجہ پالیسی کے میدان میں وائٹ ہاؤس کے فوجی برتری کیا گیا ہے پر امریکہ امریکہ کے کے مطابق سے پہلے ہے اور

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز