Islam Times:
2026-07-24@05:15:00 GMT

لبنان میں امریکہ کی ناکامی

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

لبنان میں امریکہ کی ناکامی

اسلام ٹائمز: مصنف نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک سال کی تباہ کن اور یکطرفہ جنگ بندی کے بعد، لبنان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی وسیع حکمت عملی ایک اہم موڑ پر ہے۔ اگر وہ ایک "مفاہمت کار" اور "امن ساز" ہے، تو اسے مشرق وسطیٰ میں معاہدوں اور امن میں خلل ڈالنے والے اسرائیل کو روکنا چاہیئے اور تل ابیب پر واشنگٹن کے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے، اس جونیئر پارٹنر کو لگام ڈالنا چاہیئے، تاکہ اس کے پڑوسیوں پر مسلط عدم استحکام اور افراتفری کو ختم کیا جا سکے تحریر: حسن عباسی نسب

نیشنل انٹرسٹ نے لکھا ہے کہ لبنان میں امریکی پالیسی نہ صرف غیر موثر ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ بھی ہے، کیونکہ واشنگٹن، استحکام پر مبنی کسی بھی حل کی مخالفت کرکے درحقیقت موجودہ غیر مستحکم صورتحال کو برقرار رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال بالآخر امریکی حکمت عملی کو مکمل ناکامی کی طرف لے جائے گی۔ IRNA کے مطابق، National Interest نے لکھا ہے کہ اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان "جنگ بندی" کے ایک سال بعد، صیہونی حکومت ایک بار پھر مکمل جھڑپوں کی بحالی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اس امریکی میڈیا سنٹر کے تجزیہ کار "الیگزینڈر لینگلوئس" کا خیال ہے کہ لبنان کی صورت حال ایک واضح مثال ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل اور واشنگٹن کی "طاقت کے ذریعے امن" کا نقطہ نظر قابل عمل نہیں ہے۔

مشرق وسطیٰ کے سیاسی ڈھانچے کے سنجیدہ جائزے کے بغیر بڑے اسٹریٹجک فوائد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ درحقیقت، غیر مشروط طور پر تل ابیب کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو نہ تو مسئلے کی جڑ کو حل کرسکے گا اور نہ ہی لبنان کو تشدد کے ایک نئے دور میں اترنے سے روک سکے گا۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان "جنگ بندی" کے آغاز کے ایک سال بعد، صورتحال ایسی ہے کہ اسرائیل کھلے عام مکمل جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اسرائیلی ساتھی کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرنے سے قاصر اور اس اقدام کو سنجیدگی سے انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

نومبر 2024ء کے معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں کو جنوبی لبنان سے دستبردار ہو کر باہمی حملے بند کرنا تھے، لیکن اسرائیل پانچ اہم سرحدی مقامات پر قبضہ برقرار رکھ کر نیز جنوبی لبنان اور حتیٰ کہ بیروت کے اطراف کے علاقوں پر روزانہ حملے جاری رکھ کر اس معاہدے کو غیر موثر بنا رہا ہے۔ اگرچہ لبنانی فوج نے بتدریج جنوب میں اپنی افواج کو تعینات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن مسلسل اسرائیلی کارروائیوں اور حملوں نے نہ صرف اس عمل کو درہم برہم کیا ہے بلکہ لبنانی فوجیوں کی ایک قابل ذکر تعداد کی ہلاکت کا باعث بھی بنی ہے اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی امن فوج (UNIFIL) بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہی۔ ایسے حالات میں کشیدگی کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے امریکہ نے عملی طور پر اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کشیدہ پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے ضروری موقع فراہم کیا ہے۔

نیشنل انٹریسٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کے لیے امریکی پالیسی نے دوہرا مخمصہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف مغرب اور اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی کو تیز کرنے کے لیے دباؤ اور دوسری طرف اندرونی دباؤ اور حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تخفیف اسلحہ کے معاملے پر مغرب کے ساتھ کسی بھی قریبی تعاون کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے شام میں بھی اسی ناکام ماڈل کی پیروی کی ہے اور اسرائیل کی غاصبانہ پالیسی اور مسلسل حملوں کی حمایت کرکے حالات کو طویل مدتی تعطل کی طرف لے جایا گیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر شام میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ اپنے علاقائی پارٹنر کے رویئے کو معتدل کرنے کے بجائے اپنی بالادستی کو مضبوط کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "نئے مشرق وسطیٰ" میں یہ منصوبہ ماضی کی تکرار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قبضے اور فوجی تشدد کی بنیاد پر ایک غیر مستحکم  صورتحال کو برقرار رکھنے سے مشرق وسطیٰ کا دیرینہ "امن" حاصل نہیں ہوگا۔ ماضی میں ایسے طریقوں کو دہرانا آج کی تباہیوں کا باعث بنا ہے۔ مصنف نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک سال کی تباہ کن اور یکطرفہ جنگ بندی کے بعد، لبنان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی وسیع حکمت عملی ایک اہم موڑ پر ہے۔ اگر وہ ایک "مفاہمت کار" اور "امن ساز" ہے، تو اسے مشرق وسطیٰ میں معاہدوں اور امن میں خلل ڈالنے والے اسرائیل کو روکنا چاہیئے اور تل ابیب پر واشنگٹن کے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے، اس جونیئر پارٹنر کو لگام ڈالنا چاہیئے، تاکہ اس کے پڑوسیوں پر مسلط عدم استحکام اور افراتفری کو ختم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ لبنان حزب اللہ ایک سال کے ساتھ کی طرف کیا ہے اور اس کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار