Islam Times:
2026-06-03@01:00:34 GMT

لبنان میں امریکہ کی ناکامی

اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT

لبنان میں امریکہ کی ناکامی

اسلام ٹائمز: مصنف نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک سال کی تباہ کن اور یکطرفہ جنگ بندی کے بعد، لبنان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی وسیع حکمت عملی ایک اہم موڑ پر ہے۔ اگر وہ ایک "مفاہمت کار" اور "امن ساز" ہے، تو اسے مشرق وسطیٰ میں معاہدوں اور امن میں خلل ڈالنے والے اسرائیل کو روکنا چاہیئے اور تل ابیب پر واشنگٹن کے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے، اس جونیئر پارٹنر کو لگام ڈالنا چاہیئے، تاکہ اس کے پڑوسیوں پر مسلط عدم استحکام اور افراتفری کو ختم کیا جا سکے تحریر: حسن عباسی نسب

نیشنل انٹرسٹ نے لکھا ہے کہ لبنان میں امریکی پالیسی نہ صرف غیر موثر ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ بھی ہے، کیونکہ واشنگٹن، استحکام پر مبنی کسی بھی حل کی مخالفت کرکے درحقیقت موجودہ غیر مستحکم صورتحال کو برقرار رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال بالآخر امریکی حکمت عملی کو مکمل ناکامی کی طرف لے جائے گی۔ IRNA کے مطابق، National Interest نے لکھا ہے کہ اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ کے درمیان "جنگ بندی" کے ایک سال بعد، صیہونی حکومت ایک بار پھر مکمل جھڑپوں کی بحالی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اس امریکی میڈیا سنٹر کے تجزیہ کار "الیگزینڈر لینگلوئس" کا خیال ہے کہ لبنان کی صورت حال ایک واضح مثال ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل اور واشنگٹن کی "طاقت کے ذریعے امن" کا نقطہ نظر قابل عمل نہیں ہے۔

مشرق وسطیٰ کے سیاسی ڈھانچے کے سنجیدہ جائزے کے بغیر بڑے اسٹریٹجک فوائد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ درحقیقت، غیر مشروط طور پر تل ابیب کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو نہ تو مسئلے کی جڑ کو حل کرسکے گا اور نہ ہی لبنان کو تشدد کے ایک نئے دور میں اترنے سے روک سکے گا۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان "جنگ بندی" کے آغاز کے ایک سال بعد، صورتحال ایسی ہے کہ اسرائیل کھلے عام مکمل جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اسرائیلی ساتھی کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرنے سے قاصر اور اس اقدام کو سنجیدگی سے انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

نومبر 2024ء کے معاہدے کے مطابق دونوں فریقوں کو جنوبی لبنان سے دستبردار ہو کر باہمی حملے بند کرنا تھے، لیکن اسرائیل پانچ اہم سرحدی مقامات پر قبضہ برقرار رکھ کر نیز جنوبی لبنان اور حتیٰ کہ بیروت کے اطراف کے علاقوں پر روزانہ حملے جاری رکھ کر اس معاہدے کو غیر موثر بنا رہا ہے۔ اگرچہ لبنانی فوج نے بتدریج جنوب میں اپنی افواج کو تعینات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن مسلسل اسرائیلی کارروائیوں اور حملوں نے نہ صرف اس عمل کو درہم برہم کیا ہے بلکہ لبنانی فوجیوں کی ایک قابل ذکر تعداد کی ہلاکت کا باعث بھی بنی ہے اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی امن فوج (UNIFIL) بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہی۔ ایسے حالات میں کشیدگی کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے امریکہ نے عملی طور پر اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کشیدہ پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے ضروری موقع فراہم کیا ہے۔

نیشنل انٹریسٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لبنانی حکومت کے لیے امریکی پالیسی نے دوہرا مخمصہ پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف مغرب اور اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی کو تیز کرنے کے لیے دباؤ اور دوسری طرف اندرونی دباؤ اور حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تخفیف اسلحہ کے معاملے پر مغرب کے ساتھ کسی بھی قریبی تعاون کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے شام میں بھی اسی ناکام ماڈل کی پیروی کی ہے اور اسرائیل کی غاصبانہ پالیسی اور مسلسل حملوں کی حمایت کرکے حالات کو طویل مدتی تعطل کی طرف لے جایا گیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر شام میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ اپنے علاقائی پارٹنر کے رویئے کو معتدل کرنے کے بجائے اپنی بالادستی کو مضبوط کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "نئے مشرق وسطیٰ" میں یہ منصوبہ ماضی کی تکرار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قبضے اور فوجی تشدد کی بنیاد پر ایک غیر مستحکم  صورتحال کو برقرار رکھنے سے مشرق وسطیٰ کا دیرینہ "امن" حاصل نہیں ہوگا۔ ماضی میں ایسے طریقوں کو دہرانا آج کی تباہیوں کا باعث بنا ہے۔ مصنف نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایک سال کی تباہ کن اور یکطرفہ جنگ بندی کے بعد، لبنان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی وسیع حکمت عملی ایک اہم موڑ پر ہے۔ اگر وہ ایک "مفاہمت کار" اور "امن ساز" ہے، تو اسے مشرق وسطیٰ میں معاہدوں اور امن میں خلل ڈالنے والے اسرائیل کو روکنا چاہیئے اور تل ابیب پر واشنگٹن کے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے، اس جونیئر پارٹنر کو لگام ڈالنا چاہیئے، تاکہ اس کے پڑوسیوں پر مسلط عدم استحکام اور افراتفری کو ختم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ لبنان حزب اللہ ایک سال کے ساتھ کی طرف کیا ہے اور اس کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان