امریکا فلسطین امن معاہدہ پر عمل درآمد کروائے، حافظ طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
لاہور میں پریس کانفرنس میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہا، اس بارے میں پروپیگنڈا شروع کیا گیا، پاکستان اور سعودی عرب کا اسرائیل سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، اپنے اداروں اور عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، فلسطین کیلئے امن معاہدہ ہوا تو غزہ کی تعمیر نو ہوگی، افسوس اسرائیل مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ حافظ طاہر اشرفی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردوں کی دراندازی روکے، افغان قیادت دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کبھی ہم نے افغانستان میں کوئی دہشتگرد بھیجا یا وہاں دہشتگردی کروائی ہو۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک حمایت جاری رکھے گا، فلسطینی کاز کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا مسترد کرتے ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پوری دنیا میں سپہ سالار اور پاک افواج کی پذیرائی ہو رہی ہے، معرکہ حق میں شکست پر بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے، حرمین شریفین کی پاسبانی ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے اداروں اور عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، فلسطین کیلئے امن معاہدہ ہوا تو غزہ کی تعمیر نو ہوگی، افسوس اسرائیل مسلسل معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ امریکا فلسطین امن معاہدہ پر عمل درآمد کروائے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہا، اس بارے میں پروپیگنڈا شروع کیا گیا، پاکستان اور سعودی عرب کا اسرائیل سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ طاہر اشرفی نے امن معاہدہ کر رہا نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔