دنیا بھر میں خسرہ سے اموات میں 88 فیصد کمی، مگر وائرس اب بھی خطرناک
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ 2000 سے 2024 کے دوران حفاظتی ویکسین مہمات کے باعث خسرہ سے اموات میں 88 فیصد کمی آئی ہے اور قریباً 5 کروڑ 90 لاکھ جانیں بچائی گئی ہیں۔
پچھلے سال دنیا بھر میں خسرہ سے 95 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچے تھے۔ 2024 میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد خسرہ کا شکار ہوئے، جو 2019 کے مقابلے میں 8 لاکھ زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی سمیت سندھ میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 57 اموات اور 4,200 متاثر
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ خسرہ سب سے زیادہ متعدی مرض ہے اور ویکسین میں کمی اس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔
#Measles can be fatal.
Do you know its symptoms?
???? Rash that starts on the face and spreads over the body
???? Fever
???? Cough
???? Red and watery eyes
???? Small white spots inside the cheeks
Seek health care if you suspect you or your child has measles https://t.co/XG6xSanERK pic.twitter.com/IH9Om88wos
— World Health Organization (WHO) (@WHO) November 28, 2025
امسال 59 ممالک میں خسرہ کی وبائیں پھیلیں، جس میں افریقہ اور مشرقی بحیرہ روم کے کئی بچے حفاظتی ویکسین سے محروم رہے۔ 2024 کے اختتام تک 96 ممالک خسرہ سے پاک ہوچکے تھے، لیکن نومبر 2025 میں کینیڈا میں وائرس کے پھیلاؤ کے باعث امریکی خطے کی یہ حیثیت متاثر ہوئی۔
مزید پڑھیں: گزشتہ برس دنیا بھر میں خسرہ سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ
ڈبلیو ایچ او نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ ہر بچے کو خسرہ ویکسین کی دونوں خوراکیں فراہم کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
WHO خسرہ عالمی ادارہ صحت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عالمی ادارہ صحت
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔