راولپنڈی:

بابراعظم نے ٹی 20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ کیچز لینے کا ریکارڈ بنا لیا اورمجموعی طور پر ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں شاہد آفریدی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ میں زیادہ کیچز کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آگئے ہیں۔

بابراعظم نے سری لنکا کے خلاف سہ فریقی سیریز کے فائنل میں بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا اور 3 مشکل کیچز تھامے، پہلے کوشل مینڈس، پھر سری لنکا کی جانب سے سب سے زیادہ 59 رنز بنانے والے کامل مشارا اور پھر پاون ریتھنائیکے کا کیچ لیا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان نے سری لنکا کے خلاف میچ میں 3 اہم کیچز کے ساتھ ٹی20 کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ 60 کیچز کا ریکارڈ بنا دیا اور فخر زمان کو پیچھے چھوڑ دیا۔

پاکستان کی جانب سے ٹی20 میں 136 میچز میں سب سے زیادہ 60 کیچز کا اعزاز بابر اعظم کے پاس ہے، دوسرے نمبر پر 57 کیچز فخر زمان کے ہیں اور انہوں نے یہ اعزاز 114 میچوں میں حاصل کرلیا ہے، تیسرے نمبر پر شعیب ملک جنہوں نے 50 کیچز لیے، چوتھے نمبر پر 112 میچوں میں 40 کیچز کے ساتھ شاداب خان اور عمر اکمل 64 ٹی20 میچوں میں 39 کیچز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔

بابر اعظم نے پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ کچز کا ریکارڈ بھی بہتر بنایا اور سابق کپتان شاہد آفریدی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تیسرے نمبر پر آگئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ کیچز کا ریکارڈ یونس خان کے پاس ہے جن کے کیچز کی تعداد 281 ہے اور اس کے لیے انہوں نے 408 میچوں میں 503 اننگز کھیلیں جبکہ ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 4 کیچز ہیں۔

سابق کپتان انضمام الحق دوسرے نمبر پر ہیں جنہوں نے 495 میچز میں 194 کیچز لیے اور ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 4 کیچز کیے۔

بابراعظم نے 337 میچوں کی 389 اننگز میں اب تک 170 کیچز لیے ہیں اور ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 3 کیچز ہیں۔

شاہد آفریدی کے ریکارڈ میں 518 میچوں کی 537 اننگز میں 167 کیچز ہیں اور ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ 3 کیچز ان کی بہترین فیلڈنگ کارکردگی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایک میچ میں زیادہ سے زیادہ پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی سب سے زیادہ زیادہ کیچز میچوں میں کا ریکارڈ کرکٹ میں کیچز کا ٹی20 میں

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا