منگلا کے کمیشن سے پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز بننے کا سفر، حافظ سید عاصم منیر کی کامیابیوں پر نظر
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
چیف اف ڈیفنس اورفیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا شمار پاکستان کی تاریخ کے اُن معتبر فوجی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے عسکری کیریئر کے دوران نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ خفیہ امور، انتظامی اصلاحات اور قومی سلامتی کے حساس ترین محاذوں پر نمایاں قیادت پیش کی۔
اُن کی کامیابیوں اور اعزازات نے انہیں ایک منفرد اور مضبوط سپہ سالار کے طور پر روشناس کروایا ہے۔
حافظ سید عاصم منیر 1968 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک استاد اور امام مسجد تھے انہوں نے کم عمری میں قرآن حفظ کیا اور بنیادی تعلیم راولپنڈی ہی میں مکمل کی۔
حافظ سید عاصم منیر نے 1986 میں منگلا کے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے کمیشن حاصل کیا اور دورانِ تربیت شاندار کارکردگی پر اعزازی تلوار بھی حاصل کی، جو ان کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ابتدائی اعتراف تھا۔ بعد ازاں جاپان کی Fuji School، ملائشیا کے Armed Forces College اور پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اعلیٰ عسکری و تعلیمی تربیت حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے دوران جنرل سید عاصم منیر نے کئی اہم ترین ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں فورس کمانڈر نادرن ایریاز، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل شامل ہیں۔
وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور واحد فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے بیک وقت دونوں بڑے خفیہ اداروں ملٹری انٹیلیجنس اور انٹر سروسز انٹیلیجنس کی سربراہی کی۔
29 نومبر 2022 کو انہیں پاکستان آرمی کا 17واں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا۔ مئی 2025 میں جنرل عاصم منیر کو اعزازی فیلڈ مارشل کا عہدہ تفویض کیا گیا۔
مسلح افواج کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف ملک کی داخلی اور بیرونی سلامتی کو مضبوط کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے دفاعی موقف کو مستحکم کیا۔ اور بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر ناقابل تسخیر بنایا۔
معرکہ حق ایک فیصلہ کن آپریشن تھا، جس میں پاکستان نے 9 اور 10 مئی کی رات بھارت کو عبرت ناک شکست دی اور اسے ہر محاز پر شکست سے دوچار کیاْ۔
امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوءی۔ حکومت نے ان کے فیصلوں اور جنگی حکمت عملی پر فیلڈ مارشل کا عہدہ عطا کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں شمالی اور جنوبی سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو مضبوط کیا جبکہ دہشت گردانہ حملوں میں کمی آئی اور عوامی اعتماد بحال ہواْ
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کا موقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔امریکی صدر سے تاریخی ملاقات میں دو طرفہ سیکیورٹی تعاون، دفاعی حکمت عملی اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کا کردار ادا کیاْ
وزیراعظم پاکستان کے ساتھ فیلڈ مارشل کی مشترکہ اجلاسوں میں قومی سلامتی، دفاعی اصلاحات اور اہم معاہدوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ یہ اجلاس ملکی دفاعی پالیسی، فوج کی تنظیم نو اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ ڈرون پروگرامز اور میزائل دفاعی سسٹمز میں ترقی کی جدید فضائی صلاحیتیں اور ہائی ٹیک وار فئیر اپ گریڈ کیے۔
اس کے علاوہ بارڈر مینجمنٹ اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین، خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی معاہدات پر کام کیا، جس سے پاکستان کی علاقائی اور عالمی سیکیورٹی میں شراکت داری مضبوط ہوئی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معرکہ حق اور دیگر کامیاب اقدامات نے پاکستان کو ایک مضبوط، محفوظ اور جدید دفاعی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی فیلڈ مارشل
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔