اسلام آباد‘لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ خصوصی نامہ نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، خاندانوں اور شخصیات پر مشتمل پارٹیوں اور مقتدرہ نے نظام کو نرغے میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کم عمر موٹرسائیکل سواروں کی گرفتاریوں پرحکومت کا طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے۔بچوں کو تو تھانوں میں بند کروا یا جارہا ہے ، ڈرگ مافیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔عام آدمی کا استحصال کرنے والے نظام کو بدلنے کی جدوجہد شروع کردی۔ نوجوان اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار حق اور سچ کیلئے آواز اٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے زیراہتمام رضاکاروں کے عالمی دن پر یوتھ لیڈرشپ پروگرام سے خطاب کرتے کیا۔ تقریب میں سری لنکا اور صومالیہ کے سفیروں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کے افراد اور طلبہ نے شرکت کی۔الخدمت کے نائب صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ، الخدمت کراچی کے صدر نوید علی بیگ، ائر مارشل ( ر) ارشد ملک‘ رضوان احمد ، ڈاکٹر طارق سلیم ،ڈاکٹر حمیرا طارق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا مقامی حکومتوں کے نظام میں بھی ہارس ٹریڈنگ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ جماعت اسلامی اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔انہوں نے کہا ہم سے نوجوانوں کیلئے جو ہوسکا کرینگے۔ جماعت اسلامی "بنو قابل"کے ذریعے نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم بلکل مفت فراہم کر رہی‘ بلاسود قرضے بھی دینگے۔ انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن اور اسکے 80 ہزار سے زائد رضاکاروں کو شاندار تقریب اور خدمات پرخراج تحسین پیش کیا۔آخر میںامیر جماعت اسلامی نے سفراء اور دیگر اہم شخصیات کو الخدمت کی جانب سے سوئینیرز بھی پیش کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی